مصنف ابن ابي شيبه
كتاب البعوث والسرايا
في قتال أبي عبيد (مهران) وكيف كان (أمره) باب: سیدنا ابو عبید(ابن مسعود ثقفی رضی اللہ عنہ )کی مہران میں جنگ اور اس کی تفصیلات کا بیان
٣٥٩٩٢ - حدثنا أبو أسامة عن إسماعيل عن قيس قال: كان أبو عبيد بن مسعود عبر الفرات إلى (مهران) (١) فقطعوا الجسر خلفه فقتلوه هو وأصحابه، قال: فأوصى إلى عمر بن الخطاب قال: فرثاه أبو محجن الثقفي فقال: أمسى أبو (خير) (٢) خلاء بيوته … بما كان يغشاه الجياع الأرامل (٣) أمسى أبو عمرو لدى (الجسر) (٤) منهم … إلى جانب الأبيات حرم ونابل (٥) فما زلت حتى كنت آخر رائح … (وقتل) (٦) حولي الصالحون الأماثل (وقد كنت في نحر خيارهم) (٧) … لدى (الفيل) (٨) يدمي نحرها والشواكل (٩)حضرت قیس فرماتے ہیں کہ ابو عبید بن مسعود نے مہران کی طرف جانے کے لئے دریائے فرات کو عبور کیا، دشمنوں نے ان کے گذرنے کے بعد پل کو توڑ دیا اور انہیں اور ان کے ساتھیوں کو شہید کردیا۔ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس موقع پر ابو محجن کو ان کی یاد میں اشعار کہنے کا حکم دیا اور انہوں نے اشعار کہے جن کا ترجمہ یہ ہے :” ابوجبر کا گھر ویران ہوگیا اور وہاں بھوکی بیوائیں ہیں۔ پل کے پاس بنو عمرو کناروں پر بےسروسامان پڑے ہیں۔ میں زندہ بچ جانے والوں میں سے آخری ہوں اور میرے پاس نیک لوگوں کو شہید کیا گیا۔ میرے گھوڑے کا خون بہا اور ایسابہا کہ ہر خاص وعام راستے پر اس کا خون تھا “