حدیث نمبر: 3599
٣٥٩٩ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبي عبد الرحمن: أنه قال: ما رأيت رجلًا أقرأ من علي؛ (إنه) (١) قرأ بنا في صلاة الفجر بـ: الأنبياء. قال: ⦗٢٨٢⦘ (حتى) (٢) إذا بلغ رأس السبعين ترك منها آية فقرأ (ما) (٣) بعدها، ثم ذكر فرجع (فقرأها) (٤)، ثم رجع إلى مكانه الذي كان قرأ لما (يتتعتع) (٥) (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو عبد الرحمن کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے زیادہ قرآن کا عالم کوئی نہیں دیکھا۔ انہوں نے ہمیں فجر کی نماز پڑھائی اور اس میں سورة الانبیاء کی تلاوت کی۔ انہوں نے جب ستر آیات مکمل کیں تو ایک آیت چھوڑ دی اور اس کے بعد والی آیت پڑھ لی۔ پھر جب انہیں یاد آیا تو واپس گئے اور اسے پڑھا۔ پھر اس جگہ واپس ہوگئے جہاں سے پڑھ رہے تھے، جب انہیں اٹکن محسوس ہوئی۔
حواشی
(١) سقط من: [أ]: (إنه).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ك، هـ].
(٣) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٤) في [أ]: (يقرأها).
(٥) في [ب، جـ]: (يتعتع)، وفي [ك]: (يتنعتع)، وفي [أ]: (لا يتتعتع).