حدیث نمبر: 35980
٣٥٩٨٠ - حدثنا أبو معاوية عن هشام عن أبيه قال: كانت في بني سليم ردة فبعث إليهم أبو بكر خالد بن الوليد، فجمع منهم (أناسًا) (١) في حظيرة حرقها عليهم بالنار، فبلغ ذلك عمر، فأتى (أبا) (٢) بكر فقال: انزع رجلا يعذب بعذاب اللَّه، فقال أبو بكر: واللَّه لا أشيم سيفا سله اللَّه على عدوه حتى يكون اللَّه هو يشيمه، وأمره فمضى من وجهه ذلك إلى (مسيلمة) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عروہ فرماتے ہیں کہ جب بنو سلیم کے لوگ مرتد ہونے لگے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو ایک لشکر دے کر ان کی طرف روانہ فرمایا۔ وہاں انہوں نے لوگوں کو ایک جگہ جمع کرکے انہیں آگ لگا دی۔ جب حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو یہ بات معلوم ہوئی تو وہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور ان سے کہا کہ آپ کو چاہئے کہ ایسے شخص کو قیادت سے معزول کردیں جو وہ عذاب دیتا ہے جو عذاب اللہ کا حق ہے ! حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ خدا کی قسم میں ایسے اللہ کی تلوار کو نیام میں نہیں رکھ سکتا جب تک کہ اللہ تعالیٰ خود اپنی تلوار کو نیام میں نہ رکھ دے۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو مسیلمہ کی طرف جانے کا حکم دے دیا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (أناس).
(٢) في [أ، هـ]: (أبو).
(٣) في [هـ]: (مسلمة).
(٤) منقطع، عروة بن الزبير لم يدرك ذلك.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب البعوث والسرايا / حدیث: 35980
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 35980، ترقيم محمد عوامة 34414)