٣٥٩٧٧ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا هشام عن محمد قال: كان الزبير يتبع القتلى يوم اليمامة، فإذا رأى رجلا به رمق أجهز عليه، قال: فانتهى إلى رجل مضطجع مع القتلى فأهوى إليه بالسيف فلما وجد مس السيف وثب يسعى، وسعى الزبير خلفه وهو يقول: أنا ابن صفية المهاجر، قال: فالتفت إليه (الرجل) (١) ⦗٨⦘ فقال: كيف ترى شد أخيك الكافر؟ قال: (فحاصره) (٢) حتى نجا (٣).محمد فرماتے ہیں کہ حضر ت زبیر رضی اللہ عنہ جنگ یمامہ کے دن مقتولین کو تلاش کررہے تھے۔ جب وہ کسی آدمی کے پاس سے گزرتے ، اس کا معائنہ کرتے، اگر اس میں زندگی کی کچھ رمق باقی ہوتی تو اسے بھجوا دیتے۔ آپ ایک آدمی کے پاس پہنچے، جو مقتولین میں لیٹا ہوا تھا۔ آپ نے اسے تلوار لگائی تو وہ اٹھ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ حضرت زبیر رضی اللہ عنہ اس کے پیچھے بھاگے اور کہتے جاتے تھے کہ میں صفیہ کا مہاجر بیٹا ہوں۔ آدمی ان کی طرف متوجہ ہوا اور کہنے لگا کہ آپ اپنے کافر بھائی کے پکڑنے کو کیسا سمجھتے ہیں۔ پھر انہوں نے اس کو گھیرا لیکن وہ آدمی بھاگ گیا۔