٣٥٩٧٥ - حدثنا أبو أسامة عن عبد اللَّه بن الوليد المزني عن أبي بكر بن عمرو بن عتبة عن ابن عمر قال: أتيت على عبد اللَّه بن مخرمة صريعًا (يوم) (١) اليمامة، (فوقفت) (٢) عليه فقال: يا عبد اللَّه بن عمر، هل أفطر الصائم؟ قلت: نعم، قال: فاجعل لي في هذا المجن ماء لعلي أفطر عليه، فأتيت الحوض وهو مملوء دما، فضربته (بحجفة) (٣) معي، ثم اغترفت (فيه) (٤) فأتيته فوجدته قد قضى (٥).حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ میں جنگ یمامہ میں حضرت عبد اللہ بن مخرمہ کے پاس آیا، وہ شدید زخمی حالت میں میدانِ جنگ میں پڑے تھے۔ میں ان کے پاس کھڑا ہوگیا۔ انہوں نے مجھ سے کہا کہ اے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما ! کیا روزہ دار نے روزہ افطار کرلیا (یعنی کیا روزہ کھولنے کا وقت ہوگیا) میں نے کہا جی ہاں۔ انہوں نے فرمایا کہ میرے لئے اس پیالے میں پانی لے آؤ تاکہ میں بھی روزہ افطار کرلوں۔ میں حوض کی طرف آیا تو وہ خون سے بھرا ہوا تھا۔ میں نے خون کو ہٹا کر پیالے کو پانی سے بھرا اور ان کے پاس لایا تو وہ وفات پاچکے تھے۔