حدیث نمبر: 3575
٣٥٧٥ - (حدثنا) أبو معاوية عن عاصم (١) عن أبي عثمان قال: ما رأيت أحدا كان أشد (تعاهدا) (٢) للصف من عمر إن كان (ليستقبل) (٣) القبلة حتى إذا قلنا: قد كبر التفت فنظر إلى المناكب والأقدام، وإن كان (ليبعث) (٤) رجالا يطردون الناس حتى يلحقوهم بالصفوف (٥).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابوعثمان کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عمر سے زیادہ کسی کو صفوں کو سیدھا کرنے میں احتیاط سے کام لیتے نہیں دیکھا۔ بعض اوقات ایسا ہوتا کہ وہ قبلے کی طرف رخ کرکے تکبیر کہنے لگتے تو پیچھے مڑ کر ہمارے کندھوں اور قدموں کو دیکھتے۔ حضرت عمر ایسے آدمی بھیجا کرتے تھے جو لوگوں کو صفوں میں کھڑا کرتے تھے۔
حواشی
(١) في [ب]: زيادة (عن أبي عاصم).
(٢) في [د، هـ]: (تعاهد).
(٣) في [أ، هـ]: (يستقبل)، وفي [ب]: (ليتقبل).
(٤) في [هـ]: (يبعث).