حدیث نمبر: 3557
٣٥٥٧ - حدثنا أبو بكر قال: نا ابن نمير عن أبي حيان عن أبيه عن الربيع ابن (خثيم) (١): أنه كان به مرض فكان يهادى بين رجلين إلى الصلاة، فيقال له: ⦗٢٧٢⦘ يا أبا (يزيد) (٢) إنك إن شاء اللَّه في عذر، فيقول: أجل، ولكني أسمع المؤذن: حي على الصلاة حي على الفلاح، فمن سمعها فليأتها ولو حبوًا، (ولو زحفًا) (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو حیان اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ربیع بن خثیم کو کوئی بیماری تھی، وہ دو آدمیوں کے سہارے مسجد میں آیا کرتے تھے۔ کسی نے ان سے کہا کہ اے ابو یزید ! آپ معذور ہیں، اگر چاہیں تو نماز کے لئے نہ آئیں۔ فرمایا کہ ہاں تم ٹھیک کہتے ہو، لیکن میں مؤذن کی آواز سنتا ہوں جب وہ کہتا ہے نماز کی طرف آؤ، کامیابی کی طرف آؤ تو جو یہ سنے اسے نماز کے لئے آنا چاہئے خواہ گھٹنوں کے بل گھسٹ کر ہی کیوں نہ آئے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، د]: (خيثم).
(٢) في [ب، هـ]: (زيد).
(٣) زيادة في [ب].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3557
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3557، ترقيم محمد عوامة 3539)