حدیث نمبر: 3510
٣٥١٠ - حدثنا أبو أسامة عن سفيان عن عبد الرحمن بن عابس عن عبد الرحمن ابن أبي ليلى قال: جاء ابن أم مكتوم إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه إن المدينة أرض هوام (وسباخ) (١)، فهل لي رخصة أن أصلي العشاء والفجر في بيتي؟ فقال النبي ﷺ: "أتسمع: حي على الصلاة، حي على الفلاح؟ " قال: فقال: نعم. قال: "فَحَيَّهَلا" (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ کہتے ہیں کہ حضرت ابن ام مکتوم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ مدینہ میں بہت سے حشرات اور دلدلی جگہیں ہیں، کیا میرے لئے رخصت ہے کہ میں عشاء اور فجر کی نماز اپنے گھر میں پڑھ لوں ؟ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ کیا تم حَیَّ عَلَی الصَّلاَۃِ اور حَیَّ عَلَی الْفَلاَحِ سنتے ہو ؟ انہوں نے کہا جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تو پھر نماز کے لئے ضرور آؤ۔

حواشی
(١) في [هـ]: (سباع).
(٢) في [أ]: (فحيهذا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3510
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل، أخرجه متصلا أبو داود (٥٥٢)، وابن ماجه (٧٩٢)، والنسائي ٢/ ١٠٩، والبيهقي ٣/ ٥٨، والبغوي (٧٩٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3510، ترقيم محمد عوامة 3492)