حدیث نمبر: 3495
٣٤٩٥ - حدثنا وكيع عن مسعر (بن) (١) حبيب الجرمي عن عمرو بن سلمة عن أبيه: أنهم وفدوا إلى النبي ﷺ، فلما أرادوا أن ينصرفوا (قال) (٢): قلنا له: يا رسول اللَّه من يصلي بنا؟ قال: "أكثركم جمعًا للقرآن أو أخذًا للقرآن"، فلم يكن فيهم أحد جمع من القرآن ما جمعت قال: فقدموني وأنا غلام فكنت أصلي بهم وعلي شملة، قال: فما شهدت (مجمعا) (٣) من (جرم) (٤) إلا كنت إمامهم (وأصلي) (٥) ⦗٢٥٧⦘ (على) (٦) جنائزهم إلى يومي هذا (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عمرو بن سلمہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ وہ وفد کی صورت میں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، جب واپس جانے لگے تو ہم نے عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول ! ہمیں نماز کون پڑھائے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ تمہیں وہ نماز پڑھائے جو قرآن زیادہ جانتا ہو۔ حضرت عمر و بن سلمہ فرماتے ہیں کہ اس وقت ہمارے قبیلے میں مجھ سے زیادہ قرآن کا یاد کرنے والا کوئی نہ تھا۔ چناچہ میرے نوعمر ہونے کے باوجود لوگوں نے مجھے آگے کردیا۔ پس میں انہیں نماز پڑھا یا کرتا تھا اور میرے اوپر ایک چادر ہوتی تھی۔ میں قبیلہ جرم کی جس مجلس میں بھی ہوتا میں ہی نماز پڑھاتا، اور میں اب تک ان کے جنازے پڑھا رہا ہوں۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، د، هـ]: (عن).
(٢) في [أ، ب، هـ]: (قالوا).
(٣) في [جـ]: (جمعا).
(٤) في [ب]: (خرم).
(٥) في [أ]: (يصلي).
(٦) في [أ، ب، جـ، ك] زيادة.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3495
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح، أخرجه أحمد (٢٠٣٣٢)، وأبو داود (٥٨٧)، والطيالسي (١٣٦٣)، وابن سعد ٧/ ٨٩، والبزار (٤٦٨/ كشف)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٢٥٩٦)، والطبراني (٦٣٥٤)، والبيهقي ٣/ ٩١، والمزي ٢٧/ ٤٦١، وأصله عند البخاري (٤٣٠٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3495، ترقيم محمد عوامة 3477)