مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من قال يؤم القوم أقرؤهم لكتاب الله باب: جو حضرات فرماتے ہیں کہ جو قرآن مجید کا سب سے زیادہ قاری ہو وہ امامت کرائے
٣٤٩٣ - حدثنا ابن علية عن أيوب عن عمرو بن سلمة قال: كنا على حاضر، فكان الركبان يمرون بنا راجعين من عند النبي ﷺ، فأدنو منهم فأستمع حتى حفظت قرآنا كثيرا، وكان الناس ينتظرون بإسلامهم فتح مكة، فلما فتحت جعل الرجل يأتيه فيقول (١): يا رسول اللَّه أنا وافد بني فلان وجئتك بإسلامهم، فانطلق أبي ⦗٢٥٦⦘ بإسلام قومه، فلما رجع قال: (قال) (٢) رسول اللَّه ﷺ: "قدموا أكثركم قرآنا". (قال: فنظروا وأنا على حِوَاءِ عظيم فما وجدوا فيهم أحدا) (٣) أكثر قرآنا منى فقدموني وأنا غلام فصليت بهم (٤).حضرت عمرو بن سلمہ فرماتے ہیں کہ ہم پانی کے ایک گھاٹ کے پاس رہتے تھے۔ جس کی وجہ سے قافلے ہمارے پاس رکا کرتے تھے، ان میں بعض قافلے ایسے بھی ہوتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سے واپس آرہے ہوتے تھے۔ میں ان کے پاس جاتا اور ان کی باتیں سنا کرتا تھا، یہاں تک کہ میں نے قرآن مجید کا بہت سا حصہ یاد کرلیا۔ لوگ اسلام قبول کرنے کے لئے فتحِ مکہ کا انتظار کررہے تھے۔ جب مکہ فتح ہوگیا تو لوگ ایک ایک کرکے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آتے اور کہتے ” یارسول اللہ ! ہم فلاں قبیلے کی طرف سے نمائندے ہیں اور ان کے اسلام کی اطلاع دینے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں “ میری والد بھی اپنی قوم کے اسلام کی خبر دینے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ جب وہ واپس آنے لگے تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ اپنے میں سے نماز کے لئے اس کو آگے کرو جو قرآن زیادہ جانتا ہے۔ انہوں نے غور کیا، اس وقت میں پانی کے پاس بنے ایک بڑے کمرے میں تھا۔ انہوں نے مجھ سے زیادہ عمدہ قرآن پڑھنے والا کسی کو نہ پایا چناچہ نماز کے لئے مجھے آگے کردیا۔ میں نوعمر لڑکا تھا اور انہیں نماز پڑھایا کرتا تھا۔