حدیث نمبر: 34653
٣٤٦٥٣ - حدثنا وكيع عن إسماعيل عن قيس قال: كان عمرو بن معدي كرب يمر علينا أيام القادسية ونحن صفوف فيقول: يا معشر العرب كونوا (أسودًا أشداء) (١)، (أغنى شأنه) (٢)، فإنما الفارسي (تيس) (٣) بعد أن يلقي نيزكه (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمرو بن معد یکرب رحمہ اللہ قادسیہ کے دن ہمارے پاس سے گزرے اس حال میں کہ ہم صفوں میں تھے ، آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے گروہ عرب ! تم لوگ سخت حملہ کرنے والے شیر بن جاؤ۔ بیشک شیر تو اپنی حالت سے بےپروا ہوتا ہے۔ بیشک ایرانی تو اس ہرن کی طرح ہیں جس کو نیزہ لگ چکا ہو۔
حواشی
(١) في [هـ]: (أسدًا).
(٢) كذا هنا وفيما سيأتي، وعند ابن جرير في التاريخ ٢/ ٤٣١، وابن عساكر ٤٦/ ٣٨٠، بينما ورد عند ابن عساكر (٤٦/ ٣٨٣)، قال: (غياشًا)، وفي غريب الحديث لابن قتيبة ٢/ ٥٧٠، والفائق ٣/ ٣٤: (عناشًا) وفسره بالمعانقة.
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ].