حدیث نمبر: 34624
٣٤٦٢٤ - حدثنا شبابة قال: ثنا شعبة عن سلمة بن كهيل عن حبة العرني أن عمر بن الخطاب قال: يا أهل الكوفة أنتم رأس العرب و (جمجمتها) (١) وسهمي الذي أرمي به إن أتاني شيء من هاهنا وهاهنا، وإني بعثت إليكم بعبد اللَّه بن مسعود واخترته لكم وآثرتكم به على نفسي (إثرة) (٢) (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حبہ العرنی رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : اے کوفہ والو ! تم عرب کی بنیاد ہو، اور میرا شہر ہو جس کے ذریعہ میں مقابلہ کرتا ہوں اگر کوئی چیز میرے پاس ادھر ادھر سے آجائے ، اور بیشک میں نے تمہاری طرف حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو بھیجا ہے اور میں نے ان کو تمہارے لیے چنا۔ اور ان کے معاملہ میں تم لوگوں کو اپنے آپ پر ترجیح دی۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (جمجمها).
(٢) في [أ، ب]: (امره).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34624
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف منقطع، حبة ضعيف ولا يروي عن عمر، وأخرجه الحاكم ٣/ ٣٥٦، وابن سعد ٦/ ٧.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34624، ترقيم محمد عوامة 33112)