مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في فضل قريش باب: ان روایات کا بیان جو قریش کی فضیلت میں ذکر کی گئیں
حدیث نمبر: 34561
٣٤٥٦١ - حدثنا وكيع عن سفيان عن ابن خثيم عن إسماعيل بن (عبيد اللَّه) (١) ابن رفاعة عن أبيه عن جده قال: جمع رسول اللَّه ﷺ قريشا فقال: "هل فيكم من غيركم"، (قالوا: لا) (٢)، إلا ابن أختنا ومولانا و (حليفنا) (٣)، فقال: "ابن أختكم منكم، [ومولاكم منكم، (وحليفكم منكم) (٤)] (٥)، إن قريشا أهل صدق وأمانة، فمن بغى لهم العواثر كبه اللَّه على وجهه" (٦).مولانا محمد اویس سرور
حضرت رفاعہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کو جمع کیا اور فرمایا : کیا تم میں کوئی غیر تو نہیں ؟ لوگوں نے کہا : نہیں سوائے ہمارے بھانجوں کے اور ہمارے غلاموں اور حلیفوں کے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے بھانجے تم میں سے ہیں اور تمہارے حلیف بھی تم میں سے ہیں اور تمہارے غلام بھی تم میں سے ہیں۔ بیشک قریش سچے اور دیانت دار ہیں۔ جو شخص ان کی غلطیاں اور لغزشیں تلاش کرے گا تو اللہ اس کو اوندھے منہ گرائیں گے۔
حواشی
(١) في [أ، هـ]: (عبيد).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ].
(٣) في [أ، ب]: (خليفنا).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [جـ]: تقديم وتأخير.