حدیث نمبر: 34555
٣٤٥٥٥ - حدثنا الفضل بن دكين قال: ثنا ابن الغسيل قال: ثنا عكرمة عن ابن عباس قال: جلس رسول اللَّه ﷺ يومًا على المنبر عليه ملحفة متوشحًا بها (عاصبًا) (١) رأسه بعصابة دسماء، قال: فحمد اللَّه وأثنى عليه ثم قال: " (يا) (٢) أيها الناس تكثرون، و (يقل) (٣) الأنصار حتى (يكونوا) (٤) كالملح في الطعام، فمن ولي من أمرهم شيئًا فليقبل من محسنهم وليتجاوز عن مسيئهم" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے چادر کو احرام کی سی حالت میں لیا ہوا تھا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے سر پر کالی پٹی باندھی ہوئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی حمد و ثنا بیان کی پھر ارشاد فرمایا : اے لوگو ! تم لوگ زیادہ ہو اور انصار تھوڑے ہیں ۔ یہاں تک کہ یہ کھانے میں نمک کی مقدار کے برابر ہوجائیں گے۔ پس جس شخص کو ان سے کوئی واسطہ پڑے تو اس کو چاہیئے کہ وہ ان کی نیکیوں کو قبول کرے اور ان کی برائیوں سے درگزر کرے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ح، م]: (عاصب).
(٢) سقط من: [أ، ب، ط، هـ].
(٣) في [أ، ب]: (تقل).
(٤) في [م]: (تكونوا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34555
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ أخرجه البخاري (٩٢٧)، وأحمد (٢٦٢٩).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34555، ترقيم محمد عوامة 33044)