حدیث نمبر: 34552
٣٤٥٥٢ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا سليمان بن المغيرة قال: ثنا ثابت البناني عن (عبد اللَّه) (١) بن رباح قال: وفدنا وفودا لمعاوية وفينا أبو هريرة وذلك في رمضان فقال: ألا أعلمكم بحديمث من حديثكم يا معشر الأنصار، قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "يا معشر الأنصار"، قالوا: لبيك يا رسول اللَّه، قال: "قلتم أما الرجل فأدركته رغبة في قريته ورأفة بعشيرته"، (قالوا) (٢): قد قلنا ذاك يا رسول اللَّه، قال: "فما اسمي إذن"، قال: "كلا إني عبد اللَّه ورسوله هاجرت إليكم المحيا محياكم، والممات مماتكم"، قال: فأقبلوا إليه يبكون ويقولون: واللَّه يا رسول اللَّه ما قلنا الذي قلنا إلا الضن باللَّه ورسوله، قال: " (فكان) (٣) اللَّه ورسوله يصدقانكم ويعذرانكم" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن رباح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہم لوگ وفد کی صورت میں آئے، اس حال میں کہ ہم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے۔ اور یہ رمضان کا مہینہ تھا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے گروہ انصار ! کیا میں تمہیں تمہارے متعلق ایک حدیث نہ سناؤں ؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے گروہ انصار ! لوگوں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم حاضر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگ کہتے ہو : ایک آدمی کو اپنے علاقہ میں رغبت ہوگئی اور اس کو اپنے قبیلہ سے محبت ہے ! ہم نے یہ کہا ہے ! اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تب تو یہ میر انام نہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ہرگز نہیں۔ بیشک میں اللہ کا بندہ اور اس کا رسول ہوں۔ میں نے تمہاری طرف ہجرت کی۔ جینا تمہارے ساتھ ہے اور مرنا بھی تمہارے ساتھ ۔ راوی کہتے ہیں سب صحابہ رونے لگے اور کہنے لگے : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم نے یہ بات جو کہی صرف اس مقصد سے کہ اللہ اور ا س کے رسول ﷺ کا قرب مقصود تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : بیشک اللہ اور اس کا رسول ﷺ دونوں تمہاری تصدیق کرتے ہیں اور تمہارا عذر قبول کرتے ہیں۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (عبد الرحمن).
(٢) في [أ، ب، جـ، م]: (قال).
(٣) في [هـ]: (فإن).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34552
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٨٠)، وأحمد (١٠٩٦١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34552، ترقيم محمد عوامة 33041)