٣٤٥١٠ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثني حسين بن واقد قال: حدثني عبد اللَّه بن بريدة عن أبيه أن رسول اللَّه ﷺ (قال: "سمعت) (١) (خشخشة) (٢) أمامي فقلت: من هذا؟ " (قالوا) (٣): بلال، فأخبره قال: "بما سبقتني إلى الجنة؟ "، قال: يا رسول اللَّه ما أحدثت إلا توضأت، ولا توضأت إلا رأيت (أن) (٤) للَّه علي ركعتين أصليهما، قال: "بها" (٥).حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے آگے آہٹ کی آواز سنی تو میں نے پوچھا : یہ کو ن ہے ؟ فرشتوں نے کہا : بلال رضی اللہ عنہ ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کی خبر حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو دی اور پوچھا : کس عمل کی وجہ سے تم مجھ پر سبقت لے گئے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے کبھی حدث لاحق نہیں ہوا مگر میں نے وضو کرلیا ۔ اور میں نے کبھی وضو نہیں کیا مگر یہ کہ میں نے سوچا کہ بیشک اللہ کا مجھ پر حق ہے دو رکعتوں کا، میں نے ان کو پڑھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسی وجہ سے ۔