مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في سعد بن معاذ ﵁ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا سعد بن معاذرضی اللہ عنہ کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
٣٤٤٩٤ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا محمد بن عمرو قال: ثنا واقد بن عمرو ابن سعد بن معاذ قال: دخلت على أنس بن مالك حين قدم المدينة مع ابن أخي فسلمت عليه، فقال: من أنت؟ فقلت: أنا واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ، قال: فبكى فأكثر البكاء، ثم قال: إنك شبيه سعد، إن سعدًا كان من أعظم الناس وأطولهم، وإن رسول اللَّه ﷺ بعث بعثًا إلى أكيدر دومة، فأرسل بحلة من ديباج منسوج فيها الذهب فلبسها رسول اللَّه ﷺ فجعل الناس (يلمسونها) (١) بأيديهم فقال: "أتعجبون من هذه؟ " قالوا: يا رسول اللَّه ما رأيناك أحسن منك اليوم، قال رسول اللَّه ﷺ: "لمناديل سعد في الجنة أحسن مما ترون" (٢).حضرت واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب میں اپنے بھائی کے ساتھ مدینہ آیا تو میں حضرت انس رضی اللہ عنہ کے پاس داخل ہوا۔ اور میں نے ان کو سلام کیا۔ آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : تم کون ہو ؟ میں نے کہا : میں واقد بن عمرو بن سعد بن معاذ ہوں۔ آپ رضی اللہ عنہ رونے لگے اور بہت روئے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : یقینا تم حضرت کے مشابہہ ہو۔ بیشک وہ لوگوں میں سب سے عظیم اور بڑے آدمی تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اکیدر دومہ کی طر ف ایک لشکر بھیجا تو اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ایک جوڑا بھیجا جو ریشم کا تھا اور اس میں سونے کا کام ہو اتھا۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو ملبوس فرمایا : تو لوگ اس کپڑے کو خوبصورتی کی وجہ سے ہاتھ لگا رہے تھے اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا تم کو یہ اچھا لگا ؟ لوگوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم نے آج تک اس سے اچھا اور خوبصورت کوئی کپڑا نہیں دیکھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سعد رضی اللہ عنہ کے رومال جنت میں اس سے بھی خوبصورت ہیں جو کپڑا تم دیکھ رہے ہو۔