حدیث نمبر: 34491
٣٤٤٩١ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء عن مجاهد عن ابن عمر قال: اهتز العرش لحب لقاء (١) سعدًا قال: إنما يعني السرير، قال: (تفسخت) (٢) أعواده، قال: دخل رسول اللَّه ﷺ قبره فاحتبس فلما خرج قيل: يا رسول اللَّه ما حبسك؟ قال: "ضم سعد في القبر ضمة فدعوت اللَّه أن يكشف عنه" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے ارشاد فرمایا : حضرت سعد رضی اللہ عنہ سے ملاقات کی محبت میں عرش بھی جھوم اٹھا۔ اور اس کی لکڑیاں ٹکڑے ٹکڑے ہوگئیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کی قبر میں داخل ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کافی دیر رکے رہے۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نکلے تو پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کس چیز نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو روکا ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : سعد کو قبر میں بالکل جوڑ دیا گیا پھر میں نے اللہ سے دعا کی تو قبر کشادہ ہوگئی۔

حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (اللَّه).
(٢) في [أ، ب]: (فنتحت)، وفي [جـ]: (تفتحت).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34491
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عطاء اختلط، أخرجه الحاكم ٣/ ٢٠٦، والطبراني (١٣٥٥٥، ٥٣٣٤)، والنسائي (٢١٨٢)، وابن أبي حاتم في التفسير (١١٩٩٣)، والبزار كما في المطالب (٤٠٧٢)، وابن سعد ٣/ ٤٣٣.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34491، ترقيم محمد عوامة 32982)