مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في فضل فاطمة ﵂ ابنة رسول الله ﷺ باب: ان روایات کا بیان جو سیدہ فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں مذکور ہیں
٣٤٤٤٩ - حدثنا محمد بن بشر عن زكريا عن عامر قال: خطب علي بنت أبي جهل إلى عمها الحارث بن هشام، فاستأمر رسول اللَّه ﷺ فيها فقال: "عن (حسبها) (١) تسألني؟ " قال علي: قد أعلم ما (حسبها) (٢) ولكن تأمرني بها؟ قال: "لا، فاطمة بضعة مني ولا أحب أن (تجزع) " (٣)، فقال علي: لا آتي شيئًا تكرهه (٤).حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ابو جہل کی بیٹی کے لیے اس کے چچا حارث بن ہشام کو پیام نکاح بھیجا پھر آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس بارے میں مشورہ مانگا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کیا تم اس کے حسب ونسب کے بارے میں مجھ سے پوچھ رہے ہو ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : میں جانتا ہوں اس کا حسب و نسب کیا ہے۔ لیکن کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اس کی اجازت دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں ! فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے۔ اور میں پسند نہیں کرتا کہ وہ پریشان ہو۔ اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں کوئی ایسا کام نہیں کروں گا جس کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ناپسند کرتے ہوں۔