حدیث نمبر: 34438
٣٤٤٣٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا أبو معشر عن سعيد بن أبي سعيد المقبري عن أبي هريرة قال: هبطت مع رسول اللَّه ﷺ من (ثنية) (١) هوشاء فانقطع شسعه فناولته نعلي فأبى أن يقبلها وجلس في ظل شجرة (ليصلح) (٢) نعله فقال لي: "انظر (٣) من ترى؟ "، قلت: هذا فلان بن فلان، قال: "بئس عبد اللَّه فلان"، ثم قال (لي) (٤): "انظر إلى من ترى؟ " قلت: هذا فلان، قال: "نعم عبد اللَّه فلان"، والذي قال (٥): نعم عبد اللَّه فلان خالد بن الوليد (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کسی سخت گھاٹی میں اتر رہا تھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جوتا کا تسمہ ٹوٹ گیا۔ میں نے اپنا جوتا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیا پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو قبول کرنے سے انکار کردیا۔ اور درخت کے سائے میں بیٹھ گئے تاکہ اپنا جوتا صحیح کریں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے کہا : تم کس کو دیکھ رہے ہو ؟ میں نے کہا : فلاں بن فلاں کو ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فلاں اللہ کا بندہ بُرا ہے۔ پھر مجھ سے فرمایا : تم کس کو دیکھ رہے ہو ؟ میں نے کہا : یہ فلاں شخص ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : فلاں اللہ کا بندہ بہت اچھا ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی فرمایا : کہ فلاں اللہ کا بندہ بہت اچھا ہے۔ یعنی حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ ۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (بيته).
(٢) في [أ، ب]: (يصلح).
(٣) في [هـ]: زيادة (إلى).
(٤) سقط من: [هـ].
(٥) في [هـ]: زيادة (له).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34438
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف أبي معشر، وأخرج بعضه أحمد (٨٧٢٠)، والترمذي (٣٨٤٦)، وابن أبي عاصم في الآحاد (٦٩٣).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34438، ترقيم محمد عوامة 32929)