حدیث نمبر: 34428
٣٤٤٢٨ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا العوام بن حوشب عن سلمة بن كهيل عن علقمة عن خالد بن الوليد قال: كان بيني وبين عمار كلام، فانطلق عمار يشكوني (إلى رسول اللَّه ﷺ، فأتيت رسول اللَّه ﷺ وهو يشكوني) (١)، فجعل عمار لا يزيده إلا غلظة ورسول اللَّه ﷺ ساكت، فبكى عمار وقال: يا رسول اللَّه ألا تسمعه قال: فرفع رسول اللَّه ﷺ رأسه فقال: "من عادى عمارا عاداه اللَّه، ومن أبغض عمارًا أبغضه اللَّه"، قال: فخرجت فما كان شيء أبغض إلى من غضب عمار، فلقيته فرضي (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علقمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ میرے اور عمار رضی اللہ عنہ کے درمیان کچھ تلخ کلامی ہوگئی۔ پس عمار رضی اللہ عنہ گئے اور جا کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو میری شکایت کرنے لگے۔ تو میں بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا اس حال میں کہ وہ میری شکایت کر رہے تھے۔ گفتگو کے دوران حضرت عمار رضی اللہ عنہ کا غصہ بڑھتا ہی چلا جا رہا تھا۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش تھے۔ پھر عمار رضی اللہ عنہ رونے لگے اور کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا آپ رضی اللہ عنہ نہیں سن رہے ؟ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف اپنا سر اٹھایا اور ارشاد فرمایا : جو عمار سے دشمنی کرے گا اللہ تعالیٰ اس شخص سے دشمنی کریں گے ، اور جو عمار رضی اللہ عنہ سے بغض رکھے گا اللہ تعالیٰ اس شخص سے بغض رکھیں گے۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں گھر سے نکلا تھا اس حال میں کہ حضرت عمار رضی اللہ عنہ سے زیادہ کوئی چیز مجھے مبغوض نہیں تھی۔ پھر میں ان سے ملا پس وہ راضی ہوگئے۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب].
(٢) منقطع؛ سلمة بن كهيل لا يروي عن علقمة، أخرجه أحمد (١٦٨١٤)، والنسائي في الكبرى (٨٢٦٨)، وابن حبان (٧٠٨١)، والحاكم ٣/ ٣٩٠، والطبراني (٣٨٣٥)، والطيالسي (١١٥٦)، والبخاري في التاريخ ٣/ ١٣٦.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34428
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34428، ترقيم محمد عوامة 32918)