مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في العباس ﵁ عم النبي ﷺ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی فضیلت میں منقول ہیں
حدیث نمبر: 34387
٣٤٣٨٧ - حدثنا ابن نمير عن سفيان عن أبيه عن أبي الضحى مسلم بن صبيح قال: قال العباس: يا رسول اللَّه إنا لنرى (في) (١) وجوه قوم (٢) وقائع أوقعتَها فيهم، فقال النبي ﷺ: "لن (يصيبوا) (٣) خيرًا حتى يحبوكم للَّه ولقرابتي، (ترجوا) (٤) (سلهب) (٥) شفاعتي، ولا يرجوها (بنو) (٦) (عبد) (٧) المطلب" (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابو الضحی مسلم بن صبیح رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اللہ کے رسول ﷺ! ہم لوگوں کے چہروں میں ناگواریاں دیکھتے ہیں ، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ لوگ ہرگز بھلائی نہیں پاسکتے یہاں تک کہ یہ تم سے محبت کریں میری قرابت کی وجہ سے، اے بنو سلہب والو کیا تم میری شفاعت کی امید کرتے ہو اور بنو عبد المطلب والے نہیں کرتے۔
حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، هـ].
(٢) في [هـ]: زيادة (من).
(٣) في [هـ]: (تصيبوا).
(٤) في [أ، ب، جـ، م]: (أترجوا).
(٥) في [أ، ب]: (سلهت)، وفي [هـ]: (سلهف).
(٦) سقط من: [جـ].
(٧) سقط من: [أ، ب، جـ].