مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في العباس ﵁ عم النبي ﷺ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی فضیلت میں منقول ہیں
٣٤٣٨٥ - حدثنا ابن فضيل عن يزيد عن عبد اللَّه بن الحارث قال: حدثني عبد المطلب بن ربيعة بن الحارث بن عبد المطلب أن العباس دخل على رسول اللَّه ﷺ (وأنا عنده) (١)، فقال رسول اللَّه ﷺ: "من أغضبك؟ " ((قال) (٢): يا رسول) (٣) اللَّه ما لنا ولقريش إذا تلاقوا (تلاقوا) (٤) بوجوه (مبشرة) (٥)، وإذا لقونا (لقونا) (٦) بغير ذلك، قال: فغضب رسول اللَّه ﷺ حتى أحمر وجهه، وحتى استدر عرق بين عينيه، وكان إذا غضب استدر فلما سري عنه، قال: "والذي نفس محمد بيده، لا يدخل قلبَ رجل الإيمانُ حتى يحبكم للَّه ولرسوله"، ثم قال: "أيها الناس، من آذى العباس فقد آذاني، إنما عم الرجل صنو أبيه" (٧).حضرت عبد المطب بن ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اس حال میں کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کس نے آپ رضی اللہ عنہ کو غصہ دلایا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے اللہ کے رسول ﷺ! قریش کے لوگوں کو ہم سے کیا ہوا ؟ جب وہ آپس میں ملتے ہیں تو بڑے خوشگوار چہرے سے ملتے ہیں اور جب ہم سے ملتے ہیں تو وہ اس طرح نہیں ہوتے ؟ راوی کہتے ہیں : یہ بات سن کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو غصہ آگیا یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ غصہ سے سرخ ہوگیا اور دونوں آنکھوں کے درمیان موجود رَگ پھڑکنے لگی۔ اور جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم غصہ ہوتے تو یہ رگ پھڑکتی تھی۔ پس جب آپ رضی اللہ عنہ چلے گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضۂ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے۔ ایمان ہرگز داخل نہیں ہوگا کسی آدمی کے دل میں یہاں تک کہ وہ تم لوگوں سے اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی وجہ سے محبت کرے ، پھر ارشاد فرمایا : اے لوگو ! جس نے حضرت عباس رضی اللہ عنہ کو اذیت پہنچائی، تحقیق اس نے مجھے ایذا پہنچائی۔ بیشک آدمی کا چچا اس کے با پ کی مانند ہوتا ہے۔