مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في جعفر بن أبي طالب ﵁ باب: سیدنا حمزہ بن عبد المطلب اسد اللہ کے فضائل کا بیان
٣٤٣٨١ - حدثنا محمد بن بشر قال: ثنا زكريا عن عامر أن عليًّا تزوج أسماء (ابنة) (١) عميس فتفاخر ابناها محمد بن جعفر ومحمد بن أبي بكر فقال كل واحد منهما: أنا أكرم منك، وأبي خير من أبيك، فقال لها علي: أقضي بينهما، (فقالت) (٢): ما رأيت شابًا من العرب خيرًا من جعفر، وما رأيت كهلًا كان خيرًا من أبي بكر، فقال لها علي: ما تركت لنا شيئًا، ولو قلت غير هذا لمقتك، (فقالت) (٣): (واللَّه) (٤) إن ثلاثة ⦗١٠٣⦘ أنت (أخسهم) (٥) لخيار (٦).حضرت عامر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے حضرت اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا سے شادی کرلی، تو حضرت اسماء کے بیٹے محمد بن جعفر اور محمد بن ابی بکر آپس میں ایک دوسرے پر فخر کرنے لگے۔ ان ددنوں میں سے ایک نے کہا : میں تجھ سے زیادہ معزز ہوں اور میرا باپ تیرے باپ سے افضل ہے اس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : میں ان دونوں کے درمیان فیصلہ کروں گا۔ اتنے میں حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : میں نے عرب کا کوئی جوان جعفر رضی اللہ عنہ سے بہتر نہیں دیکھا۔ اور میں نے کوئی بوڑھا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے بہتر نہیں دیکھا۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا : تو نے ہمارے لیے کوئی بات ہی نہیں چھوڑی۔ اگر تم اس کے علاوہ کچھ اور جواب دیتی تو میں تم سے بہت سخت ناراض ہوتا۔ حضرت اسمائ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : اور تم ان تینوں میں سب سے کم بہتر ہو۔