مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من كره أنا يتوكأ الرجل على الشيء وهو يصلى باب: جو حضرات نماز پڑھتے ہوئے ٹیک لگانے کو مکروہ خیال فرماتے تھے
حدیث نمبر: 3437
٣٤٣٧ - حدثنا هشيم قال: (أخبرنا) (١) حميد عن أنس قال: دخل رسول اللَّه ﷺ (ذات) (٢) يوم فإذا حبل ممدود فقال: "ما هذا؟ " (٣) قيل: فلانة تصلي يا رسول اللَّه، فإذا أعيت استراحت على هذا الحبل. قال: "فَلْتُصَلِّ مَا نَشِطَتْ، فَإِذَا أَعْيَتْ فَلْتَنَمْ" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک مرتبہ تشریف لائے تو ایک رسی بندھی ہوئی تھی۔ آپ نے پوچھا ” یہ کیا ہے ؟ “ آپ کو بتایا گیا کہ اے اللہ کے رسول ! فلاں عورت نماز پڑھتی ہے، جب وہ تھک جاتی ہے تو اس رسی پر آرام کرتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ جب تک نشاط ہو تو نماز پڑھ لے اور جب تھک جائے تو سو جائے۔
حواشی
(١) في [جـ، ك]: (أنا).
(٢) في [أ]: (كان).
(٣) في [أ]: (فيقل).