حدیث نمبر: 34363
٣٤٣٦٣ - حدثنا أسود بن عامر قال: حدثني مهدي بن ميمون عن محمد بن عبد اللَّه بن أبي يعقوب عن ابن أبي نعم قال: كنت جالسًا عند ابن عمر فأتاه رجل (فسأله عن دم البعوض؟ فقال له ابن عمر: ممن أنت؟ قال: رجل) (١) من أهل ⦗٩٧⦘ العراق، فقال ابن عمر: ها انظروا هذا يسألني عن دم البعوض وهم قتلوا ابن رسول اللَّه ﷺ، و (٢) سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "هما ريحانتي من الدنيا" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن ابی نعیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ایک آدمی آیا اور اس نے مچھر کے خون سے متعلق سوال کیا۔ تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے ارشاد فرمایا : تم کہاں کے ہو ؟ اس نے کہا : کہ میں اہل عراق میں سے ہوں۔ اس پر حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : اوہ ! لوگو اس کی طرف دیکھو یہ ایک مچھر کے خون کے متعلق مجھ سے سوال کر رہا ہے حالانکہ ان لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بیٹے کو قتل کردیا ! اور میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یوں ارشاد فرماتے ہوئے سنا تھا کہ : وہ دونوں میری دنیا کی بہاریں ہیں۔

حواشی
(١) سقط من: [هـ].
(٢) في [هـ]: زيادة (قد).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34363
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٥٩٩٤)، وأحمد (٥٦٧٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34363، ترقيم محمد عوامة 32854)