حدیث نمبر: 34324
٣٤٣٢٤ - حدثنا يزيد بن هارون عن يحيى بن سعيد أن عبد اللَّه أخبره أن عائشة كانت تحدث أن رسول اللَّه ﷺ سهر ذات ليلة وهو إلى جنبي، قالت: فقلت: يا رسول اللَّه ما شأنك؟ فقال: "ليت رجلًا صالحا من أمتي يحرسني الليلة"، قال: فبينا نحن كذلك إذ سمعت صوت السلاح، فقال رسول اللَّه ﷺ: "من هذا؟ " فقال: أنا سعد بن مالك، قال: "ما جاء بك؟ " قلت: جئت أحرسك يا رسول اللَّه، قال: فسمعت غطيط رسول اللَّه ﷺ في نومه (١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان فرمایا کرتی تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات جاگے رہے اس حال میں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پہلو میں تھے۔ میں نے پوچھا : اے اللہ کے رسول ﷺ! آپ کو کیا ہوا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کاش میری امت کا کوئی نیک آدمی رات کو میری چوکیداری کرے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ کہ ہم ابھی اسی درمیان ہی تھے کہ میں نے ہتھیار کی آواز سنی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : کون شخص ہے ؟ آواز آئی ۔ میں سعد بن مالک ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : تم کیوں آئے ہو ؟ انہوں نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میں آپ کی حفاظت کرنے کے لیے آیا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ پھر میں نے نیند میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خراٹوں کی آواز سنی۔

حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34324
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (٢٨٨٥)، ومسلم (٢٤١٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34324، ترقيم محمد عوامة 32815)