مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
فضائل علي بن أبي طالب ﵁ باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
٣٤٣٠٤ - حدثنا الفضل بن دكين عن ابن أبي (غنية) (١) عن الحكم عن سعيد ابن جبير عن ابن عباس (عن بريدة) (٢) قال: مررت مع علي إلى اليمن فرأيت منه جفوة، فلما قدمت على رسول اللَّه ﷺ ذكرت عليًا (فتنقصته) (٣)، فجعل وجه رسول اللَّه ﷺ يتغير، فقال: "ألست أولى بالمؤمنين من أنفسهم؟ " قلت: بلى يا رسول اللَّه، قال: "من كنت مولاه فعلي مولاه" (٤).حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت بریدہ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ یمن لڑنے کے لیے گیا۔ تو میں نے ان میں کچھ زیادتی دیکھی۔ جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا تو میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا اور ان کا نقص بیان کیا : اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا میں مومنین پر ان کی جانوں سے زیادہ مقدم نہیں ہوں ؟ میں نے عرض کیا : کیوں نہیں اے اللہ کے رسول ﷺ! ضرور ۔ آپ نے فرمایا : میں جس کا دوست ہوں پس علی رضی اللہ عنہ بھی اس کا دوست ہے۔