حدیث نمبر: 34299
٣٤٢٩٩ - حدثنا خلف بن خليفة عن أبي هارون قال: كنت مع ابن عمر جالسًا إذ جاءه نافع بن الأزرق فقام على رأسه فقال: (واللَّه إني) (١) لأبغض عليًا، قال: فرفع إليه ابن عمر رأسه فقال: أبغضك اللَّه، تبغض رجلًا سابقة من سوابقه خير من (الدنيا) (٢) وما فيها (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو ہارون رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا کہ اچانک نافع بن ازرق آیا، اور آپ رضی اللہ عنہ کے سر پر کھڑا ہو کر کہنے لگا۔ اللہ کی قسم ! میں علی رضی اللہ عنہ سے بغض رکھتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں۔ کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا سر اٹھا کر ارشاد فرمایا : اللہ بھی تجھ سے بغض رکھے اس لیے کہ تو ایسے شخص سے بغض رکھتا ہے جو سبقت لے جانے والا ہے۔ اور دنیا اور اس میں موجود تمام چیزوں سے بہتر ہے۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: تقديم وتأخير.
(٢) في [أ]: (الدني).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34299
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف جدًا؛ أبو هارون متروك.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34299، ترقيم محمد عوامة 32790)