حدیث نمبر: 34298
٣٤٢٩٨ - حدثنا يحيى بن آدم قال: ثنا (عبيد) (١) اللَّه الأشجعي عن سفيان بن (سعيد) (٢) عن عثمان بن المغيرة الثقفي عن سالم بن أبي الجعد عن علي ابن علقمة الأنماري عن علي قال: لما نزلت (هذه الآية) (٣): ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً﴾، قال: قال لي رسول اللَّه ﷺ: "ما (ترى!) (٤) دينار؟ " قلت: لا (يطيقونه) (٥)، قال: "فكم؟ " قلت: شعيرة، قال: ⦗٧٨⦘ "إنك لزهيد"، قال: فنزلت: ﴿أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ (يَدَيْ نَجْوَاكُمْ) (٦) صَدَقَاتٍ﴾، (الآية) (٧) قال: (فبه) (٨) (خفف) (٩) اللَّه عن هذه الأمة (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علی رضی اللہ عنہ بن علقمہ انماری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب یہ آیت اتری ! اے ایمان والو ! جب تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی میں بات کرنا چاہو تو تم علیحدگی میں بات کرنے سے پہلے کچھ صدقہ پیش کرو۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : تمہاری کیا رائے ہے ؟ کیا ایک دینار میں کافی ہے ؟ میں نے عرض کیا : لوگ اتنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : تو کتنا ہونا چاہیئے ؟ میں نے عرض کیا تھوڑے سے جَو مقرر کردیے جائیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یقینا یہ تو بہت ہی کم ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ اتنے میں دوسری آیت اتری گئی : ترجمہ : کیا تم لوگ ڈر گئے اس بات سے کہ پیش کرو اپنی علیحدگی کی گفتگو سے پہلے صدقات ؟ الایۃ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پس میری وجہ سے اللہ نے اس امت پر آسانی فرما دی۔

حواشی
(١) في [جـ]: (عبد).
(٢) في [أ، ب، م، هـ]: (سعد).
(٣) سقط من: [م].
(٤) في [أ، ب]: (ترك).
(٥) في [أ، ب]: (تطيقونه).
(٦) في [أ، ب]: (أيديكم).
(٧) في [أ، ب]: (الآيات).
(٨) في [أ، ب، جـ، ط، م، هـ]: (فقد).
(٩) في [هـ]: (خفت).
(١٠) مجهول؛ لجهالة علي بن علقمة الأنماري، أخرجه الترمذي (٣٣٠٠)، والنسائي (٨٥٣٧)، وابن حبان (٦٩٤١)، وعبد بن حميد (٩٠)، وأبو يعلى (٤٠٠)، وابن جرير ٢٨/ ٢١، والنحاس في الناسخ ص ٧٠١، والضياء (٦٨١)، والبزار (٦٦٨)، وابن عدي ٥/ ٢٠٤، والعقيلي ٣/ ٢٤٢.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34298
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34298، ترقيم محمد عوامة 32789)