مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
فضائل علي بن أبي طالب ﵁ باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
٣٤٢٩٨ - حدثنا يحيى بن آدم قال: ثنا (عبيد) (١) اللَّه الأشجعي عن سفيان بن (سعيد) (٢) عن عثمان بن المغيرة الثقفي عن سالم بن أبي الجعد عن علي ابن علقمة الأنماري عن علي قال: لما نزلت (هذه الآية) (٣): ﴿يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً﴾، قال: قال لي رسول اللَّه ﷺ: "ما (ترى!) (٤) دينار؟ " قلت: لا (يطيقونه) (٥)، قال: "فكم؟ " قلت: شعيرة، قال: ⦗٧٨⦘ "إنك لزهيد"، قال: فنزلت: ﴿أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ (يَدَيْ نَجْوَاكُمْ) (٦) صَدَقَاتٍ﴾، (الآية) (٧) قال: (فبه) (٨) (خفف) (٩) اللَّه عن هذه الأمة (١٠).حضرت علی رضی اللہ عنہ بن علقمہ انماری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : جب یہ آیت اتری ! اے ایمان والو ! جب تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی میں بات کرنا چاہو تو تم علیحدگی میں بات کرنے سے پہلے کچھ صدقہ پیش کرو۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے ارشاد فرمایا : تمہاری کیا رائے ہے ؟ کیا ایک دینار میں کافی ہے ؟ میں نے عرض کیا : لوگ اتنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا : تو کتنا ہونا چاہیئے ؟ میں نے عرض کیا تھوڑے سے جَو مقرر کردیے جائیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یقینا یہ تو بہت ہی کم ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ اتنے میں دوسری آیت اتری گئی : ترجمہ : کیا تم لوگ ڈر گئے اس بات سے کہ پیش کرو اپنی علیحدگی کی گفتگو سے پہلے صدقات ؟ الایۃ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : پس میری وجہ سے اللہ نے اس امت پر آسانی فرما دی۔