حدیث نمبر: 34294
٣٤٢٩٤ - حدثنا جعفر بن عون قال: ثنا (شقيق) (١) بن أبي عبد اللَّه قال: حدثنا أبو بكر بن خالد بن عُرْفُطَة قال: أتيت سعد بن مالك بالمدينة فقال: ذكر لي أنكم تسبون عليًا؟ قال: قد فعلنا، قال: فلعلك قد سببته؟ قال: قلت: معاذ اللَّه، قال: فلا تسبه، فلو وضع المنشار على مفرقي على أن أسب عليًا ما سببته أبدًا، بعد ما سمعت من رسول اللَّه ﷺ ما سمعت (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوبکر بن خالد بن عُرْفطہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس مدینہ میں آیا ، تو انہوں نے کہا : مجھ سے ذکر کیا گیا ہے کہ تم لوگ حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالیاں دیتے ہو ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے کہا : جی ہاں ! آپ رضی اللہ عنہ نے پوچھا : شاید کہ تم بھی ان کو گالیاں دیتے ہو ؟ میں نے عرض کیا : اللہ کی پناہ ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم کبھی ان کو گالی مت دینا۔ پس اگر میرے سر کے درمیان میں آرا رکھ دیا جائے کہ میں حضرت علی رضی اللہ عنہ کو گالی دوں ! میں کبھی بھی ان کو گالی نہیں دوں گا اس حدیث کے سننے کے بعد جو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سن چکا ہوں۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ط، هـ]: (سفيان)، وانظر: المطالب العالية (٣٩٣٩).
(٢) مجهول؛ لجهالة أبي بكر بن خالد بن عرفطة، أخرجه النسائي (٨٤٧٧)، وأبو يعلى (٧٧٧)، وابن أبي عاصم في السنة (١٣٥٣)، والضياء (١٠٧٧)، والدورقي في مسند سعد (١١٢)، والبخاري في الكنى ص ١١، والمزي ١٢/ ٥٥٥، وابن عساكر ٤٢/ ٤١٢.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34294
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34294، ترقيم محمد عوامة 32785)