مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
فضائل علي بن أبي طالب ﵁ باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
٣٤٢٩٠ - حدثنا عفان قال: ثنا حماد بن سلمة قال: أخبرنا علي بن زيد عن عدي بن ثابت عن البراء قال: عنا مع رسول اللَّه ﷺ في سفر، قال: فنزلنا بغدير خم قال: فنودي الصلاة جامعة، وكسح لرسول اللَّه ﷺ تحت شجرة (فصلى) (١) الظهر فأخذ بيد علي فقال: "ألستم تعلمون أني أولى بالمؤمنين من أنفسهم"، قالوا: بلى، قال: "ألستم تعلمون أني أولى (بكل) (٢) (مؤمن) (٣) من (نفسه) (٤) "، قالوا: (بلى) (٥) قال: فأخذ بيد علي فقال: "اللهم من كنت مولاه فعلي مولاه، اللهم وال من والاه وعاد من عاداه"، قال: فلقيه عمر بعد ذلك فقال: هنيئا لك يا ابن أبي طالب، أصبحت وأمسيت مولى كل مؤمن ومؤمنة (٦).حضرت عدی بن ثابت رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت براء رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : ہم لوگ ایک سفر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ہم لوگوں نے غدیر خم کے مقام پر پڑاؤ ڈالا۔ پس ندا لگائی گئی کہ نماز کے لیے جمع ہو جاؤ۔ اور ایک درخت کے نیچے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے جگہ صاف کی گئی پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز پڑھائی۔ اور پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر ارشاد فرمایا : کیا تم لوگوں کو علم نہیں کہ میں سب مومنین پر ان کی جانوں سے بھی زیادہ مقدم ہوں ؟ صحابہ رضی اللہ عنہ م نے عرض کیا : کیوں نہیں ! راوی فرماتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : اے اللہ ! میں جس کا دوست ہوں پس علی رضی اللہ عنہ بھی اس کا دوست ہے۔ اے اللہ ! جو شخص اس کو دوست رکھے پس تو بھی اس کو دوست رکھ۔ اور جو اس سے دشمنی کرے تو بھی اس سے دشمنی فرما۔ راوی فرماتے ہیں : اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہان سے ملے اور فرمایا : اے ابو طالب کے بیٹے ! تمہیں مبارک ہو۔ تم نے ہر مومن مرد اور مومن عورت کا دوست ہونے کی حالت میں صبح و شام کی۔