مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
فضائل علي بن أبي طالب ﵁ باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
٣٤٢٧٦ - حدثنا (عبد اللَّه) (١) بن نمير عن إسماعيل بن أبي خالد عن (أبي إسحاق عن) (٢) هبيرة بن يريم قال: سمعت الحسن بن علي قام خطيبًا فخطب الناس فقال: يا أيها الناس لقد فارقكم أمس رجل ما سبقه الأولون، ولا يدركه الآخرون، ولقد كان رسول اللَّه ﷺ يبعثه المبعث فيعطيه الراية، فما يرجع حتى يفتح اللَّه عليه، جبريل عن يمينه وميكايل عن شماله، ما ترك بيضاء ولا صفراء إلا سبعمائة درهم فضلت من عطائه أراد أن يشتري بها خادما (٣).حضرت ابو اسحاق رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ھبیرہ بن یریم رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ خطبہ دینے کے لیے کھڑے ہوئے پھر لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا : اے لوگو ! کل تم سے ایک ایسا شخص جد اہو گیا کہ نہیں سبقت لے جاسکے اس سے پہلے لوگ اور نہ ہی بعد والے لوگ اس کا مقام پاسکتے ہیں۔ تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کو کسی لشکر میں بھیجتے تو ان کو جھنڈا عطا فرماتے پس وہ واپس نہیں لوٹتے یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ ان کو فتح عطا فرما دیتے۔ جبرائیل علیہ السلام ان کے دائیں جانب ہوتے اور میکائیل علیہ السلام ان کے بائیں جانب ہوتے۔ انہوں نے کوئی سونا، چاندی نہیں چھوڑا سوائے سات درہموں کے جو میں نے ان کی بخشش میں سے بچائے تھے۔ اس لیے کہ ان سے ایک خادم خریدنے کا ارادہ تھا۔