حدیث نمبر: 34275
٣٤٢٧٥ - حدثنا أبو أسامة عن عوف عن عطية أبي (المعذل) (١) الطفاوي عن أبيه قال: أخبرتني أم سلمة أن رسول اللَّه ﷺ كان عندها في بيتها ذات يوم، فجاءت الخادم فقالت: علي وفاطمة بالسدة، فقال: "تنحي لي عن أهل بيتي"، فتنحت في ناحية البيت، فدخل علي وفاطمة وحسن وحسين فوضعهما في حجره، وأخذ عليًا بإحدى يديه فضمه إليه، وأخذ فاطمة باليد الأخرى فضمها إليه (وقبلهما) (٢)، وأغدف عليهم خميصة سوداء، ثم قال: "اللهم إليك لا إلى النار أنا وأهل بيتي"، قالت: فناديته فقلت: وأنا يا رسول اللَّه، قال: "وأنت" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں میرے پاس تھے۔ کہ خادمہ نے آکر عرض کیا : حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا دروازے پر ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میرے گھر والوں کے لیے جگہ بناؤ۔ پس میں گھر کے ایک کونے میں ہوگئی۔ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ تشریف لائے۔ پھر دونوں بچوں کو تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی گود میں بٹھا لیا ۔ اور اپنے ایک ہاتھ سے علی رضی اللہ عنہ کو پکڑ کر اپنے سے چمٹا لیا اور دوسرے ہاتھ سے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو پکڑ کر اپنے سے چمٹا لیا اور ان کا بوسہ بھی لیا۔ اور ان سب پر اپنی کالی چادر ڈال دی۔ پھر ارشاد فرمایا : اے اللہ ! تیری طرف پناہ پکڑتے ہیں نہ کہ جہنم کی طرف میں اور میرے گھر والے ۔ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ۔ میں نے پکار کر کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میں بھی ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تو بھی۔

حواشی
(١) في [ط، هـ]: (المعدل).
(٢) في [أ، ب، جـ]: (قبلها).
(٣) مجهول، والد الطفاوي لا يعرف، والابن ضعيف، أخرجه أحمد (٢٦٥٤٠)، والطبراني (٢٦٦٧)، والدولابي ٢/ ١٢١.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34275
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34275، ترقيم محمد عوامة 32767)