حدیث نمبر: 34274
٣٤٢٧٤ - حدثنا محمد بن مصعب عن الأوزاعي عن شداد أبي عمار قال: دخلت على واثلة وعنده قوم فذكروا فشتموه، فشتمته معهم، فقال: ألا أخبرك بما سمعت من رسول اللَّه ﷺ؟ قلت: بلى، قال: أتيت فاطمة أسألها عن علي فقالت: توجه إلى رسول اللَّه ﷺ فجلس، فجاء رسول اللَّه ﷺ ومعه علي وحسن وحسين ⦗٦٩⦘ كل واحد منهما آخذ بيده، (حتى دخل) (١) فأدنى عليا وفاطمة فأجلسهما بين يديه، و (أجلس) (٢) حسنًا وحسينًا كل واحد منهما على فخذه، ثم لف عليهم ثوبه أو قال: (كساء) (٣)، ثم تلا هذه الآية: ﴿إِنَّمَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيُذْهِبَ عَنْكُمُ الرِّجْسَ أَهْلَ الْبَيْتِ (٤)﴾، ثم قال: "اللهم هولاء أهل بيتي، وأهل بيتي أحق" (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شداد ابو عمارہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اس حال میں کہ ان کے پاس چند لوگ بیٹھے ہوئے تھے ۔ پس ان لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا پھر ان کو سب و شتم کرنے لگے تو میں نے بھی ان کے ساتھ ان کو برا بھلا کہا۔ تو حضرت واثلہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کیا میں تمہیں اس حدیث کے بارے میں نہ بتلاؤں جو میں نے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ضرور سنائیں۔ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کے پاس گیا میں نے ان سے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا : تو وہ فرمانے لگیں ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ہیں پس میں بیٹھ کر انتظار کرنے لگا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائیں درآنحالیکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ ، حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے۔ ان سب نے ایک دوسرے کا ہاتھ پکڑا ہوا تھا یہاں تک کہ وہ گھر میں داخل ہوگئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو اپنے قریب کیا اور ان دونوں کو اپنے سامنے بٹھا لیا ۔ اور حضرت حسن رضی اللہ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو بھی بٹھایا یہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی ران پر تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب پر اپنا کپڑا یا چادر ڈال دی ۔ پھر یہ آیت تلاوت فرمائی۔ اے نبی ﷺ کے گھر والو ! اللہ تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم سے گندگی کو دور کر دے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے اللہ ! یہ لوگ میرے گھر والے ہیں۔ اور میرے گھر والے سب سے زیادہ حقدار ہیں۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، جـ، هـ].
(٢) في [أ، ب]: (الحسن).
(٣) في [هـ]: (كساءه).
(٤) في [أ، ب] زيادة: (ويطهركم تطهيرًا).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34274
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ محمد بن مصعب صدوق، أخرجه أحمد (١٦٨٨)، والحاكم ٢/ ٤١٦، والبخاري في التاريخ ٨/ ١٨٧، وابن حبان (٦٩٧٦)، وأبو يعلى (٧٤٨٦)، والطبراني ٢٢/ (١٦٠)، وابن جرير في التفسير ٢٢/ ٧، والطحاوي في شرح المشكل (٧٧٣)، والبيهقي ٢/ ٤١٦، والقطيعي في زوائد الفضائل (١٤٠٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34274، ترقيم محمد عوامة 32766)