حدیث نمبر: 34272
٣٤٢٧٢ - حدثنا أبو بكر بن عياش عن صدقة بن سعيد عن جميع بن عمير قال: دخلت على عائشة أنا و (أمي) (١) وخالتي فسألناها كيف كان علي عنده؟ فقالت: تسألوني عن رجل وضع يده من رسول اللَّه ﷺ موضعا لم (يضعها) (٢) أحد، وسألت نفسه في يده ومسح بها وجهه ومات، فقيل: أين (تدفنوه) (٣) فقال علي: ما في الأرض بقعة أحا إلى اللَّه من بقعة قبض فيها نبيه، فدفناه (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت جُمَیع بن عمیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں میری والدہ اور میری خالہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے پس ہم نے ان سے پوچھا : کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک کیا مقام تھا ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : تم نے مجھ سے ایک ایسے آدمی کے بارے میں سوال کیا جس نے نبی ﷺ کے بدن پر ایسی جگہ ہاتھ رکھا جہاں کسی نے بھی نہیں رکھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ان ہاتھ میں نکلی کہ انہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے چہرے پر ہاتھ پھیرا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔ پوچھا گیا : تم لوگ نبی ﷺ کو کہاں دفن کرو گے ؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ کے نزدیک زمین کا کوئی ٹکڑا اس حصہ سے زیادہ محبوب نہیں جس میں اس نبی ﷺ کی وفات ہوئی۔ لہٰذا ہم نے اسی جگہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تدفین کردی۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (أبي).
(٢) في [أ، ب]: (يضعه).
(٣) في [ط، هـ]: (يدفنوه).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34272
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف جميع بن عمير، أخرجه أبو يعلى (٤٨٦٥)، وابن عساكر ٤٢/ ٣٩٤.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34272، ترقيم محمد عوامة 32764)