حدیث نمبر: 34268
٣٤٢٦٨ - حدثنا ابن فضيل عن يزيد عن عبد الرحمن بن أبي ليلى قال: بينما النبي ﷺ (١) عنده نفر من أصحابه، فأرسل إلى نسائه فلم يجد عند امرأة منهن شيئًا، فبينما هم كذلك إذ هم بعلي قد أقبل (شعشًا) (٢) مغبرًا، على عاتقه قريب من صاع من تمر قد عمل بيده، فقال النبي ﷺ: "مرحبا بالحامل والمحمول"، ثم أجلسه ⦗٦٧⦘ فنفض عن رأسه التراب، ثم قال: "مرحبا بأبي تراب"، فقربه فأكلوا حتى صدروا، ثم أرسل إلى نسائه كل واحدة منهن طائفة (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد الرحمن بن ابی لیلیٰ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس ان کے اصحاب کی ایک جماعت تھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیویوں کے پاس کھانے کا پیغام بھیجا لیکن کسی بھی بیوی کے پاس کھانے کی کوئی چیز بھی نہ ملی۔ تو اچانک حضرت علی رضی اللہ عنہ سامنے سے آتے ہوئے نظر آئے جو غبار آلود اور پراگندہ حال میں تھے اور ان کے کندھے پر ایک صاع کے قریب کھجوریں تھیں۔ جو انہوں نے مزدوری کر کے حاصل کی تھیں۔ پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : خوش آمدید بوجھ اٹھانے والے کو اور اٹھائے ہوئے بوجھ کو، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنے پاس بٹھایا اور ان کے سر سے مٹی جھاڑی پھر ارشاد فرمایا : خوش آمدید ابوتراب ! پھر انہوں نے کھجوروں کو قریب کیا۔ یہاں تک کہ سب نے سیر ہو کر کھائیں ۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تمام ازواج مطہرات کو بھی اس میں سے حصہ بھیجا۔

حواشی
(١) في [م]: ﵇.
(٢) في [هـ]: (أشعث).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34268
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل ضعيف؛ ابن أبي ليلى تابعي، ويزيد ضعيف.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34268، ترقيم محمد عوامة 32760)