مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
فضائل علي بن أبي طالب ﵁ باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
٣٤٢٦٤ - حدثنا شريك عن عياش العامري عن عبد اللَّه بن شداد قال: قدم على رسول اللَّه ﷺ وفد (آل) (١) سرح من اليمن، فقال لهم رسول اللَّه ﷺ: "لتقيمن الصلاة ولتؤتن الزكاة ولتسمعن ولتطيعن، أو (لأبعثن) (٢) إليكم رجلًا (كنفسي) (٣) يقاتل مقاتلتكم ويسبي ذراريكم، اللهم أنا أو كنفسي"، (ثم) (٤) أخذ بيد علي (٥).حضرت عبد اللہ بن شداد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ یمن کے سرح قبیلہ کا ایک وفد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آیا ، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے ارشاد فرمایا : چاہیے کہ تم ضرور بالضرور نماز قائم کرو اور زکوۃ ادا کرو۔ اور بات سنو اور اطاعت کرو۔ یا پھر میں تمہاری طرف ایک ایسا آدمی بھیجوں گا جو میرے جیسا ہے وہ تمہارے لڑنے والوں سے قتال کرے گا اور تمہاری اولادوں کو قیدی بنا لے گا۔ اللہ کی قسم ! وہ میں یا میرے جیسا ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑا۔