حدیث نمبر: 34260
٣٤٢٦٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن (ناجية) (١) بن كعب عن علي قال: لما مات أبو طالب أتيت النبي ﷺ (فقلت) (٢): يا رسول اللَّه إن عمك الشيخ الضال قد مات قال: فقال: "انطلق فواره ثم (لا تحدثن) (٣) شيئًا حتى تأتيني"، قال: فواريته ثم أتيته فأمرني فاغتسلت، ثم دعا لي بدعوات ما أحب أن لي بهن ما على الأرض (من) (٤) (شيء) (٥) (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ناجیۃ بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ جب ابو طالب کی وفات ہوگئی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول ﷺ! بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بوڑھا گمراہ چچا وفات پا گیا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ان کو لے جا کر دفن کردو۔ پھر تم ہرگز کچھ مت کرنا۔ یہاں تک کہ میرے پاس آجانا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پس میں نے ان کو دفن کردیا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غسل کا حکم دیا ۔ پس میں نے غسل کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے چند دعائیں کی۔ میں پسند نہیں کرتا اس بات کو کہ میرے لیے ان دعاؤں کے عوض زمین پر یہ یہ چیزیں ہوں۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (فاختة).
(٢) في [أ، ب]: (قلت).
(٣) في [أ، ب، جـ، هـ]: (لا تحدثني).
(٤) سقط من: [أ، ب].
(٥) في [أ، ب]: (بشيء).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34260
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ ناجية بن كعب صدوق، أخرجه أحمد وأبو داود (٣٢١٤)، والنسائي ٤/ ٧٩، وابن سعد ١/ ١٢٤، والبيهقي ٣/ ٣٩٨، والدارقطني في العلل ٤/ ١٤٦، والشافعي في مسنده ١/ ٢٠٧، وأبو يعلى (٤٢٣)، وابن الجارود (٥٥٠)، وعبد الرزاق (٩٩٣٦)، والبزار (٥٩٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34260، ترقيم محمد عوامة 32752)