مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
فضائل علي بن أبي طالب ﵁ باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
٣٤٢٦٠ - حدثنا وكيع عن سفيان عن أبي إسحاق عن (ناجية) (١) بن كعب عن علي قال: لما مات أبو طالب أتيت النبي ﷺ (فقلت) (٢): يا رسول اللَّه إن عمك الشيخ الضال قد مات قال: فقال: "انطلق فواره ثم (لا تحدثن) (٣) شيئًا حتى تأتيني"، قال: فواريته ثم أتيته فأمرني فاغتسلت، ثم دعا لي بدعوات ما أحب أن لي بهن ما على الأرض (من) (٤) (شيء) (٥) (٦).حضرت ناجیۃ بن کعب رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ جب ابو طالب کی وفات ہوگئی تو میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول ﷺ! بلاشبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا بوڑھا گمراہ چچا وفات پا گیا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ان کو لے جا کر دفن کردو۔ پھر تم ہرگز کچھ مت کرنا۔ یہاں تک کہ میرے پاس آجانا۔ آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پس میں نے ان کو دفن کردیا۔ پھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضر ہوا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے غسل کا حکم دیا ۔ پس میں نے غسل کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے چند دعائیں کی۔ میں پسند نہیں کرتا اس بات کو کہ میرے لیے ان دعاؤں کے عوض زمین پر یہ یہ چیزیں ہوں۔