مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
فضائل علي بن أبي طالب ﵁ باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
٣٤٢٥٧ - حدثنا عبيد اللَّه عن طلحة بن جبر عن المطلب بن عبد اللَّه عن مصعب بن عبد الرحمن عن عبد الرحمن بن عوف قال: لما افتتح رسول اللَّه ﷺ مكة انصرف إلى الطائف فحاصرها (تسع) (١) (عشرة) (٢) أو ثماني عشرة، فلم يفتحها، ثم ارتحل روحة أو غدوة فنزل ثم هجّر ثم قال: "أيها الناسُ، إني فرط لكم، وأوصيكم بعترتي خيرًا، وإن موعدكم الحوض، والذي نفسي بيده لتقيمن الصلاة ولتؤتن الزكاة، أو لأبعثن إليكم رجلًا مني أو (كنفسي) (٣) فليضربن أعناق مقاتلتهم وليسبين ذراريهم"، قال: فرأى الناس أنه أبو بكر أو عمر فأخذ بيد علي فقال: "هذا" (٤).حضرت عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ فتح کرلیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم طائف کی طرف لوٹے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اٹھارہ یا انیس دن تک طائف کا محاصرہ کیا۔ لیکن اس کو فتح نہ کرسکے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صبح یا شام کے وقت کوچ فرمایا : پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم ٹھہرے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم دوپہر کو چلنے لگے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے لوگو ! بیشک میں تم سے پہلے پہنچنے والا ہوں گا ، اور میں تمہیں اپنی اولاد کے بارے میں بھلائی کی وصیت کرتا ہوں ۔ اور تم سے وعدے کی جگہ حوض کوثر کا مقام ہے۔ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے چاہیے کہ تم ضرور بالضرور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو یا پھر میں تمہاری طرف اپنے ایک آدمی کو بھیجوں گا ۔ یا اپنے جیسے ایک آدمی کو بھیجوں گا ۔ پس وہ ضرور بالضرور ان میں سے قتال کرنے والوں کی گردنوں کو مارے گا ۔ اور ان کی اولادوں کو قیدی بنا لے گا۔ راوی کہتے ہیں : لوگوں کا خیال تھا کہ وہ شخص حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ یا حضرت عمر رضی اللہ عنہ ہوں گے۔ پس آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا : وہ شخص یہ ہے۔