مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
فضائل علي بن أبي طالب ﵁ باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
٣٤٢٥٣ - حدثنا بن أبي (غنية) (١) عن أبيه عن إسماعيل بن رجاء عن أبيه عن أبي سعيد الخدري قال: كنا جلوسًا في المسجد فخرج رسول اللَّه ﷺ فجلس إلينا ولكأن على رؤوسنا الطير لا يتكلم أحد منا، فقال: "إن منكم رجلًا يقاتل الناس على تأويل القرآن كما قوتلتم على تنزيله"، فقام أبو بكر فقال: أنا هو يا رسول اللَّه؟ قال: "لا"، فقام عمر فقال: أنا هو يا رسول اللَّه؟ قال: "لا ولكنه خاصف النعل في الحجرة"، قال: فخرج علينا علي ومعه نعل رسول اللَّه ﷺ يصلح منها (٢).حضرت رجائ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے پاس بیٹھ گئے : ہم میں سے کوئی بھی بات نہیں کر رہا تھا گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے ایک آدمی ہوگا جو لوگوں سے قتال کرے گا قرآنی تاویل پر جیسا کہ اس کے اترنے پر تم سے قتال کیا گیا تھا۔ پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا وہ شخص میں ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا وہ شخص میں ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں بلکہ وہ شخص حجرے میں جوتے کو پیوند لگا رہا ہے۔ راوی کہتے ہیں ۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اس حال میں کہ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جوتا تھا جس کو انہوں نے ٹھیک کیا تھا۔