حدیث نمبر: 34253
٣٤٢٥٣ - حدثنا بن أبي (غنية) (١) عن أبيه عن إسماعيل بن رجاء عن أبيه عن أبي سعيد الخدري قال: كنا جلوسًا في المسجد فخرج رسول اللَّه ﷺ فجلس إلينا ولكأن على رؤوسنا الطير لا يتكلم أحد منا، فقال: "إن منكم رجلًا يقاتل الناس على تأويل القرآن كما قوتلتم على تنزيله"، فقام أبو بكر فقال: أنا هو يا رسول اللَّه؟ قال: "لا"، فقام عمر فقال: أنا هو يا رسول اللَّه؟ قال: "لا ولكنه خاصف النعل في الحجرة"، قال: فخرج علينا علي ومعه نعل رسول اللَّه ﷺ يصلح منها (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت رجائ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ ہم لوگ مسجد میں بیٹھے ہوئے تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور ہمارے پاس بیٹھ گئے : ہم میں سے کوئی بھی بات نہیں کر رہا تھا گویا کہ ہمارے سروں پر پرندے بیٹھے ہوں۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم میں سے ایک آدمی ہوگا جو لوگوں سے قتال کرے گا قرآنی تاویل پر جیسا کہ اس کے اترنے پر تم سے قتال کیا گیا تھا۔ پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا وہ شخص میں ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا وہ شخص میں ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں بلکہ وہ شخص حجرے میں جوتے کو پیوند لگا رہا ہے۔ راوی کہتے ہیں ۔ پس حضرت علی رضی اللہ عنہ ہمارے پاس آئے اس حال میں کہ ان کے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا جوتا تھا جس کو انہوں نے ٹھیک کیا تھا۔

حواشی
(١) في [هـ]: (عتيبة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34253
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه البخاري (١١٧٧٣)، والنسائي في الكبرى (٧٥٤١)، وابن حبان (٦٩٣٧)، والحاكم ٣/ ١٢٢، وابن عدي ٧/ ٢٦٦٦، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٦٧، وأبو يعلى (١٠٦٨)، والبغوي (٢٥٥٧)، والقطيعي في زوائد الفضائل (١٠٨٣)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ٤٣٦، وابن الجوزي في العلل (٣٨٦).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34253، ترقيم محمد عوامة 32745)