حدیث نمبر: 34252
٣٤٢٥٢ - حدثنا أسود بن عامر عن شريك عن منصور عن ربعي عن علي عن النبي ﷺ (١) قال: "يا معشر قريش ليبعثن اللَّه عليكم رجلًا منكم قد امتحن اللَّه قلبه للإيمان فيضربكم أو يضرب رقابكم"، فقال أبو بكر: أنا هو يا رسول اللَّه؟ قال: "لا"، (فقال) (٢) عمر: أنا هو يا رسول اللَّه؟ قال: "لا، ولكنه خاصف النعل"، وكان أعطى عليًا نعله يخصفها (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے گروہ قریش ! اللہ تعالیٰ ضرور بالضرور ایک آدمی بھیجیں گے جو تم ہی میں سے ہوگا۔ تحقیق اللہ نے اس کے دل کو ایمان کے لیے چن لیا ہے۔ پس وہ تمہیں قتل کرے گا یا یوں فرمایا : کہ وہ تمہاری گردنیں مارے گا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا وہ شخص میں ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا وہ شخص میں ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں بلکہ وہ جوتوں میں پیوند لگانے والا ہے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوتا مرحمت فرمایا تھا جس میں انہوں نے پیوند لگایا تھا۔

حواشی
(١) في [جـ، م] زيادة: (أنه).
(٢) في [أ، ب]: (قال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34252
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ شريك صدوق، أخرجه النسائي (٨٤١٦)، والترمذي (٣٧١٥)، والحاكم ٢/ ١٣٧، والطبراني في الأوسط (٣٨٦٢)، والبزار (٩٠٥)، والخطيب ١/ ١٣٣، وابن عساكر ٤٢/ ٣٤٢، وابن الأثير ٤/ ١١٤، والطحاوي في شرح المشكل (٤٠٥٣)، والقطيعي في زوائد فضائل الصحابة (١١٠٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34252، ترقيم محمد عوامة 32744)