مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
فضائل علي بن أبي طالب ﵁ باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
٣٤٢٥٢ - حدثنا أسود بن عامر عن شريك عن منصور عن ربعي عن علي عن النبي ﷺ (١) قال: "يا معشر قريش ليبعثن اللَّه عليكم رجلًا منكم قد امتحن اللَّه قلبه للإيمان فيضربكم أو يضرب رقابكم"، فقال أبو بكر: أنا هو يا رسول اللَّه؟ قال: "لا"، (فقال) (٢) عمر: أنا هو يا رسول اللَّه؟ قال: "لا، ولكنه خاصف النعل"، وكان أعطى عليًا نعله يخصفها (٣).حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے گروہ قریش ! اللہ تعالیٰ ضرور بالضرور ایک آدمی بھیجیں گے جو تم ہی میں سے ہوگا۔ تحقیق اللہ نے اس کے دل کو ایمان کے لیے چن لیا ہے۔ پس وہ تمہیں قتل کرے گا یا یوں فرمایا : کہ وہ تمہاری گردنیں مارے گا۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا وہ شخص میں ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں ، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول ﷺ! کیا وہ شخص میں ہوں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : نہیں بلکہ وہ جوتوں میں پیوند لگانے والا ہے۔ اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جوتا مرحمت فرمایا تھا جس میں انہوں نے پیوند لگایا تھا۔