حدیث نمبر: 34239
٣٤٢٣٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن عمرو بن مرة عن أبي البختري عن علي قال: بعثني رسول اللَّه ﷺ إلى أهل اليمن لأقضي بينهم، فقلت: يا رسول اللَّه إني لا علم لي بالقضاء، قال: فضرب بيده على صدري فقال: "اللهم اهد قلبه وسدد لسانه"، فما شككت في قضاء بين اثنين حتى جلست مجلسي هذا (١).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یمن والوں کے پاس بھیجنا چاہا تاکہ میں ان کے درمیان فیصلے کروں۔ پس میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے تو قضاء سے متعلق کچھ بھی معلوم نہیں، آپ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے سینہ پر اپنا ہاتھ مار کر یہ دعا فرمائی۔ اے اللہ ! اس کے دل کو ہدایت عطا فرما۔ اور اس کی زبان کو سیدھا کر دے۔ پس مجھے کبھی بھی دو بندوں کے درمیان فیصلہ کرنے میں شک نہیں ہوا۔ یہاں تک کہ آج میں اس جگہ پر بیٹھا ہوا ہوں۔

حواشی
(١) منقطع؛ أبو البختري لم يسمع من علي، أخرجه أحمد (٦٣٦)، وابن ماجه (٢٣١٠)، والحاكم ٣/ ١٣٥، والنسائي في الكبرى (٨٤١٩)، وابن سعد ٢/ ٣٣٧، والبزار (٩١٢)، وعبد بن حميد (٩٤)، وأبو يعلى (٤٠١)، وابن عساكر ٤٢/ ٣٨٩.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34239
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34239، ترقيم محمد عوامة 32731)