مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
فضائل علي بن أبي طالب ﵁ باب: سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کے فضائل کا بیان
٣٤٢٣٧ - حدثنا جرير بن عبد الحميد عن مغيرة عن (أم) (١) موسى عن أم سلمة قالت: والذي أحلف به إن كان علي لأقرب الناس عهدًا برسول اللَّه ﷺ، قالت: عدنا رسول اللَّه ﷺ يوم قبض في بيت عائشة، فجعل رسول اللَّه ﷺ (غداة بعد غداة) (٢) يقول: "جاء علي؟ " مرارًا، قالت: وأظنه كان بعثه في حاجة، قالت: فجاء بعد فظننا أن له إليه حاجة، فخرجنا من البيت فقعدنا بالباب، فكنت من أدناهم من الباب، قالت: (فأكب) (٣) عليه علي فجعل يساره ويناجيه، ثم قبص من يومه ذلك، فكان أقرب الناس به عهدًا (٤).حضرت ام موسیٰ فرماتی ہیں کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے ارشاد فرمایا : میں قسم اٹھاتی ہوں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ لوگوں میں سب سے زیادہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھے عہد کے اعتبار سے۔ آپ فرماتی ہیں ۔ ہم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عیادت کر رہے تھے جس دن حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح میں ہر تھوڑی دیر بعد بار بار فرماتے کہ علی رضی اللہ عنہ آگیا ؟ آپ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں۔ مجھے یہ گمان تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو کسی کام بھیجا ہے۔ پس وہ تھوڑی دیر میں آگئے تو ہم نے محسوس کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ان سے کوئی کام ہے اس لیے ہم گھر سے نکل کر دروازے کے پاس بیٹھ گئے۔ پس ان سب میں دروازے کے سب سے زیادہ قریب میں تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنی طرف متوجہ کیا اور ان سے سرگوشی فرماتے رہے۔ پھر اسی دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوگیا۔ تو آپ رضی اللہ عنہ ہی سب سے زیادہ عہد کے اعتبار سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھے۔