مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في فضل عثمان ابن عفان ﵁ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
٣٤٢٣٤ - حدثنا أبو معاوية عن عاصم عن ابن سيرين أنه ذكر عنده عثمان فقال (رجل) (١): إنهم يسبونه، فقال: ويحهم يسبون رجلًا دخل على النجاشي في نفر من أصحاب (محمد) (٢) ﷺ (٣) فكلهم (أعطى) (٤) الفتنة غيره، قالوا: وما الفتنة التي أعطوها؟ قال: كان لا يدخل عليه (أحد) (٥) إلا أومأ برأسه فأبى عثمان، فقال: ما منعك أن تسجد كما سجد أصحابك؟ فقال: ما كنت لأسجد لأحد دون اللَّه ﷿ (٦) (٧).حضرت عاصم رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ کے پاس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا گیا تو ایک آدمی کہنے لگا۔ یقینا لوگ تو ان کو گالیاں دیتے ہیں ! اس پر آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : ہلاکت ہے ان لوگوں کے لیے جو ایسے شخص کو گالیاں دیتے ہیں جو نجاشی بادشاہ پر داخل ہوا محمد ﷺ کے اصحاب کے ایسے گروہ میں سے کہ سب ان کے علاوہ فتنہ میں پڑگئے تھے ! لوگوں نے پوچھا : کہ وہ لوگ کس فتنہ میں پڑے تھے ؟ آپ رحمہ اللہ نے فرمایا : جو شخص بھی اس بادشاہ پر داخل ہوتا تو وہ سر جھکا کر اس کو سلام کرتا۔ پس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایسا کرنے سے انکار کردیا ، تو اس بادشاہ نے پوچھا : تمہیں کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جیسا کہ تمہارے ساتھیوں نے سجدہ کیا ؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : میں اللہ عزو جل کے علاوہ کسی کو بھی سجدہ نہیں کرتا۔