مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في فضل عثمان ابن عفان ﵁ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
٣٤٢٣٢ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا محمد بن عمرو عن أبي سلمة قال: قال نافع بن عبد الحارث: دخل رسول اللَّه ﷺ حائطًا من حيطان المدينة، وقال لي: "أمسك عليّ الباب"، فجاء حتى جلس على القف، ودلى رجليه في البئر، ⦗٥٣⦘ فضرب الباب فقلت من هذا؟ قال: أبو بكر، قلت: يا رسول اللَّه، هذا أبو بكر، فقال: ائذن له وبشره بالجنة، قال: فأذنت له وبشرته بالجنة، فجاء فجلس مع رسول اللَّه ﷺ على القف ودلى رجليه في البئر، ثم ضرب الباب فقلت: من هذا؟ (فقال) (١): عمر، قلت: يا رسول اللَّه، هذا عمر، فقال: "ائذن له وبشره بالجنة" قال: فأذنت له وبشرته بالجنة، فجاء فجلس مع رسول اللَّه ﷺ على القف ودلى رجليه في البئر، [ثم ضرب الباب، فقلت: من هذا؟ قال: عثمان، قلت: يا رسول اللَّه هذا عثمان قال: "ائذن له وبشره بالجنة (مع) (٢) بلاء"، قال: فأذنت له وبشرته بالجنة، فدخل فجلس مع رسول اللَّه ﷺ على القف ودلى رجليه في البئر] (٣) (٤).حضرت نافع بن حارث رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے فرمایا : کہ مجھ پر دروازہ بند کردو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے یہاں تک کہ کنویں کے گرد بنی ہوئی منڈیر پر بیٹھ گئے اور اپنی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں۔ پس دروازہ بجایا گیا تو میں نے پوچھا : کون شخص ہے ؟ اس نے کہا : ابوبکر ہوں۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ ابوبکر رضی اللہ عنہ ہیں۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کو اجازت دے دو اور ان کو جنت کی خوشخبری بھی سنا دو ۔ پس وہ آئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کنویں کے منڈیر پر بیٹھ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں۔ پھر دروازہ بجا۔ میں نے پوچھا : کون شخص ہے ؟ اس نے کہا : عمر رضی اللہ عنہ ہوں۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ عمر رضی اللہ عنہ ہیں ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کو بھی اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری بھی سنا دو ۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان کو آنے کی اجازت دی اور جنت کی خوش خبری بھی سنا دی۔ پس وہ تشریف لائے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کنویں کے منڈیر پر بیٹھ گئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے بھی اپنی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں۔ پھر دروازہ بجا۔ میں نے پوچھا : کون شخص ؟ وہ کہنے لگا ! عثمان رضی اللہ عنہ ہوں۔ میں نے عرض کیا۔ اے اللہ کے رسول ﷺ! یہ عثمان رضی اللہ عنہ ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کو بھی اجازت دے دو ۔ اور جنت کی خوشخبری بھی سنا دو ۔ آزمائش کے ساتھ۔ راوی کہتے ہیں میں نے ان کو بھی اجازت دی اور جنت کی خوشخبری بھی سنا دی۔ پس وہ داخل ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کنویں کے منڈیر پر بیٹھ گئے اور اپنی دونوں ٹانگیں کنویں میں لٹکا لیں۔