مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في فضل عثمان ابن عفان ﵁ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
٣٤٢٢٦ - حدثنا زيد بن الحباب قال: حدثني ابن لهيعة قال: حدثني يزيد بن عمرو المعافري قال: سمعت (أبا ثور) (١) الفهمي يقول: قدم عبد الرحمن بن عديس (البلوي) (٢) وكان ممن بايع تحت الشجرة فصعد المنبر فحمد اللَّه وأثنى عليه ثم ⦗٥١⦘ ذكر عثمان فقال أبو ثور: فدخلت على عثمان وهو محصور فقلت: إن فلانا ذكر كذا وكذا، فقال عثمان: ومن أين وقد اختبأتُ عند اللَّه عشرًا: إني لرابع في الإسلام، وقد زوجني رسول اللَّه ﷺ ابنته ثم ابنته، وقد بايعت رسول اللَّه ﷺ بيدي هذه اليمنى فما مسست بها ذكري، ولا تغنيت ولا تمنيت، ولا شربت خمرًا في جاهلية ولا إسلام، وقد قال رسول اللَّه ﷺ: "من يشتري هذه (الزنقة) (٣) ويزيدها في المسجد: له بيت في الجنة"، فاشتريتها وزدتها في المسجد (٤).حضرت یزید بن عمرو المعاصری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابو ثور الفھمی رحمہ اللہ نے ارشاد فرمایا : کہ عبد الرحمن بن عدیس جو کہ ان لوگوں میں ہیں جنہوں نے درخت کے نیچے بیعت کی تھی وہ بلوائیوں کے پاس آیا اور منبر پر چڑھا : حمدو ثنا کے بعد اس نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ذکر کیا۔ تو حضرت ابو ثور رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ میں محاصرے کے دوران حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس حاضر ہوا اور میں نے عرض کیا کہ فلاں شخص آپ رضی اللہ عنہ کے بارے میں ایسے اور ایسے کہہ رہا ہے۔ پس حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایسی بات کیسے ہوسکتی ہے ؟ حالانکہ میں نے اللہ کے پاس دس خصوصیات ذخیرہ کی ہوئی ہیں۔ وہ یہ کہ میں اسلام لانے والا چوتھا شخص ہوں۔ اور تحقیق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے سے اپنی ایک بیٹی کا نکاح کیا، پھر دوسری بیٹی کا نکاح کیا اور تحقیق میں نے اپنے اس دائیں ہاتھ سے رسول اللہ سے بیعت کی تو پھر کبھی بھی میں نے اس سے اپنی شرمگاہ کو نہیں چھوا۔ اور نہ ہی میں نے کبھی عشق و معشوقی کی۔ اور نہ ہی کبھی اس چیز کی میں نے کبھی تمنا و آرزو کی ۔ اور میں نے نہ تو زمانہ جاہلیت میں اور نہ ہی زمانہ اسلام میں کبھی شراب پی۔ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا کہ کون شخص اس راستہ کے حصہ کو خرید کر اس سے مسجد کی توسیع کرے گا تو اس کے لیے اس کے بدلہ جنت میں گھر ہوگا ؟ پس میں نے اس جگہ کو خرید کر مسجد کی توسیع کی تھی۔