حدیث نمبر: 34215
٣٤٢١٥ - حدثنا زيد بن حباب قال: حدثني معاوية بن صالح قال: حدثني ربيعة بن يزيد الدمشقي قال: ثنا عبد اللَّه بن قيس أنه سمع النعمان بن بشير أرسله معاوية بن أبي سفيان بكتاب إلى عائشة فدفعه إليها فقالت لي: أنا أحدثك بحديث سمعته من رسول اللَّه ﷺ، قلت: بلى، قالت: إني عنده ذات يوم أنا وحفصة ⦗٤٧⦘ فقال: "لو كان عندنا (رجل) (١) يحدثنا"، فقلت: (يا رسول) (٢) اللَّه ابعث (إلى) (٣) أبي بكر فيجيء فيحدثنا، قال: فسكت، فقالت حفصة: (يا رسول) (٤) اللَّه ابعث (إلى) (٥) عمر فيحدثنا، فسكت، قالت: فدعا رجلًا فأسر إليه دوننا فذهب، ثم جاء عثمان فأقبل عليه بوجهه فسمعته يقول: "يا عثمان، إن اللَّه لعله أن يقمصك قميصًا، فإن أرادوك على خلعه فلا تخلعه" -ثلاثًا، قلت: يا أم المؤمنين أين كنت عن هذا الحديث؟ قالت: أنسيته كأني لم أسمعه قط (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن قیس رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت معاویہ بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ نے ان کو ایک خط دے کر حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بھیجا تو انہوں نے وہ خط ان کو دے دیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا میں تمہیں وہ حدیث بیان نہ کروں جو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنی تھی ؟ میں نے کہا : کیوں نہیں ! ضرور سنائیں۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ایک دن میں اور حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا ، حضور ﷺ کے پاس تھیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرمانے لگے۔ کاش کہ ہمارے پاس کوئی آدمی ہوتا تو وہ ہم سے بات کرتا ۔ میں نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پیغام نہ بھیج دوں کہ وہ آئیں اور ہم سے بات چیت کریں ؟ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے کہا : اے اللہ کے رسول ﷺ! میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی طرف پیغام نہ بھیج دوں کہ وہ ہم سے بات چیت کریں ۔ پس آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے ۔ آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آدمی کو بلا کر ہم سے ہٹ کر اس سے سرگوشی کی پھر وہ چلا گیا پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ ان کی طرف متوجہ کیا۔ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا : اے عثمان : شاید اللہ تعالیٰ تمہیں ایک قمیص پہنائیں گے پس اگر کچھ لوگ اس کو تم سے اتروانا چاہیں تو تم ہرگز اس کو مت اتارنا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ تین بار ارشاد فرمایا۔ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی۔ اے ام المؤمنین ! آپ رضی اللہ عنہ نے پہلے یہ حدیث کیوں بیان نہیں کی ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : مجھے یہ بھلا دی گئی تھی گویا کہ میں نے اس کو کبھی سنا ہی نہ ہو۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ]: (رجلًا).
(٢) في [جـ]: (برسول).
(٣) في [م]: (إليّ).
(٤) في [جـ]: (برسول).
(٥) في [م]: (إليّ).
(٦) معلول، أخرجه ابن حبان (٦٩١٥)، والطيالسي (١٥٤٤)، وابن سعد ١/ ٤٦٨، والخلال في السنة (٤١٨)، وابن أبي عاصم في السنة (١١٧٢)، وقد خالف الجماعة معاوية بن صالح فقالوا: عبد اللَّه بن عامر بدل قيس، أخرجه أحمد (٢٤٥٦٦)، والترمذي (٣٧٠٥)، وابن شبه في تاريخ المدينة ٣/ ١٠٦٩، والطبراني في الشاميين (١٩٣٤)، وأخرجه بنحوه الحاكم ٣/ ٩٩، وابن ماجه (١١٢).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34215
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34215، ترقيم محمد عوامة 32708)