حدیث نمبر: 34211
٣٤٢١١ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن كليب بن وائل عن حبيب بن أبي مليكة قال: سأل رجل ابن عمر عن عثمان فقال: شهد بدرًا؟ فقال: لا، فقال: هل شهد بيعة الرضوان؟ فقال: لا، قال: فهل تولى يوم التقى الجمعان؟ قال: نعم، قال: ثم ذهب الرجل، فقيل لابن عمر: إن هذا يزعم أنك (عبت) (١) عثمان، قال: ردوه (عليَّ) (٢)، (قال) (٣): (فردوه) (٤) عليه، فقال (له) (٥): هل عقلت ما قلت لك؟ قال: نعم، قال: سألتني هل شهد عثمان بدرًا فقلت لك: لا، فقال: إن رسول اللَّه ﷺ قال: "اللهم إن عثمان في حاجتك وحاجة رسولك (٦) "، فضرب له (بسهمه) (٧) وسألتني هل شهد بيعة الرضوان، قال: ⦗٤٥⦘ فقلت لك: لا، وإن رسول اللَّه ﷺ بعثه إلى الأحزاب ليوادعونا (ويسالمونا) (٨) فأبوا وإن رسول اللَّه ﷺ بايع له وقال: "اللهم إن عثمان في حاجتك وحاجة رسولك ﷺ (٩) "، ثم مسح بإحدى يديه على الأخرى فبايع له، وسألتني هل كان عثمان تولى يوم التقى الجمعان قال: فقلت: نعم، وإن اللَّه قال: ﴿إِنَّ الَّذِينَ تَوَلَّوْا مِنْكُمْ يَوْمَ الْتَقَى الْجَمْعَانِ إِنَّمَا اسْتَزَلَّهُمُ الشَّيْطَانُ بِبَعْضِ مَا كَسَبُوا وَلَقَدْ عَفَا اللَّهُ عَنْهُمْ﴾ [آل عمران: ١٥٥]، فاذهب فاجهد عليَّ جهدك (١٠).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت حبیب بن ابی ملیکہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے متعلق پوچھا : کہ کیا وہ غزوہ بدر میں حاضر ہوئے تھے ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں۔ پھر اس نے پوچھا : کیا وہ بیعت الرضوان میں حاضر ہوئے تھے ؟ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : نہیں ! اس نے پوچھا : کہ کیا وہ اس دن پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تھے جس دن دو لشکر آمنے سامنے ہوئے تھے ( غزوہ احد) ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جی ہاں ! راوی کہتے ہیں : پھر وہ آدمی چلا گیا تو حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے کہا گیا : بلاشبہ یہ آدمی سمجھا کہ آپ رضی اللہ عنہ نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا عیب بیان کیا ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کو میرے پاس واپس بلاؤ۔ پس اس شخص کو واپس لے آئے۔ پھر آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : جو میں نے تمہیں کہا ہے کیا تم اسے سمجھے بھی ہو ؟ اس نے کہا : جی ہاں ! آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ غزوہ بدر میں شریک ہوئے تھے ؟ تو میں نے تمہیں جواب دیا کہ نہیں ہوئے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے اللہ ! بلاشبہ عثمان تیری اور تیرے رسول کی حاجت میں ہے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مال غنیمت میں ان کا حصہ بھی مقرر فرمایا : اور تم نے مجھ سے سوال کیا کہ کیا حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بیعت الرضوان میں حاضر تھے ؟ تو میں نے تمہیں جواب دیا کہ نہیں تھے۔ اس لیے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو مشرکوں کی طرف بھیجا کہ وہ لوگ ہم سے مصالحت کرلیں مگر ان لوگوں نے انکار کردیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بیعت لی۔ اور فرمایا : اے اللہ ! بلاشبہ عثمان تیری اور تیرے رسول کی حاجت میں ہے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ایک ہاتھ کو دوسرے ہاتھ میں دے کر ان کی طرف سے بھی بیعت کی اور تم نے مجھ سے سوا ل کیا کہ کیا حضرت عثمان اس دن پیٹھ پھیر کر بھاگ گئے تھے جس دن دو لشکروں کا آمنا سامنا ہوا ؟ تو میں نے تمہیں جواب دیا : جی ہاں ! اور یقینا اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا : ( ترجمہ : بیشک وہ لوگ جو پیٹھ پھیر گئے تم میں سے جس دن باہم ٹکرائیں دو فوجیں۔ اس کا سبب صرف یہ تھا کہ قدم ڈگمگا دیے تھے ان کے شیطان نے بوجہ بعض ان حرکتوں کے جو وہ کر بیٹھے تھے۔ بہرحال معاف کردیا اللہ نے انہیں) پس تم جاؤ اور جو میرے خلاف کرنا ہے کرو۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (عتبت).
(٢) زيادة في [م]: (عليّ).
(٣) سقط من: [هـ].
(٤) في [م]: (فرد)، وفي [أ، ب، جـ]: (فردّه).
(٥) سقط من: [أ، ب].
(٦) في [جـ] زيادة: ﷺ
(٧) في [م]: (بسهم).
(٨) في [أ، ب]: (يسالونا).
(٩) سقط من: [م].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الفضائل / حدیث: 34211
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أبو داود (٢٧٢٠)، والحاكم ٣/ ٩٨، والطحاوي ٣/ ٢٤٤، والطبراني ١/ (١٢٥)، وأبو يعلى (٥٥٩٩)، والمزي ٥/ ٤٠٢، والبيهقي في الدلائل ٣/ ٣١١، وابن أبي عاصم في الآحاد (١٤٤)، وأصله عند البخاري (٣٦٩٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 34211، ترقيم محمد عوامة 32704)