مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الفضائل
ما ذكر في فضل عثمان ابن عفان ﵁ باب: ان روایات کا بیان جو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ بن عفان کی فضیلت میں ذکر کی گئی ہیں
٣٤١٩٣ - حدثنا أبو أسامة قال: ثنا كهمس بن الحسن عن عبد اللَّه بن شقيق قال: حدثني (هرم) (١) بن الحارث وأسامة بن (خريم) (٢) وكانا (يغازيان) (٣) فحدثاني حديثًا ولا يشعر كل واحد منهما أن صاحبه (حدثنيه) (٤) عن مرة (البهزي) (٥) قال: بينما نحن مع نبي اللَّه ﷺ ذات يوم في طريق من طرق المدينة فقال: "كيف تصنعون في فتنة (تحور) (٦) في أقطار الأرض كأنها صياصي (بقر) (٧)؟ " (قالوا) (٨): فنصنع ماذا يا رسول اللَّه؟ قال: "عليكم بهذا (و) (٩) أصحابه"، (قال) (١٠): فأسرعت حتى عطفتُ على الرجل، فقلت: هذا يا نبي اللَّه (قال: هذا) (١١) فإذا هو عثمان (١٢).حضرت مرۃ البھزی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اس درمیان کہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک دن مدینہ کی گلیوں میں سے ایک گلی میں تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگوں کا کیا حال ہوگا اس فتنہ میں جو اطراف زمین میں پھوٹ پڑے گا گویا کہ وہ گائے کے دو سینگوں کی طرح ہوگا۔ صحابہ رضی اللہ عنہ م نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ ! ہم لوگ اس صورت میں کیا کریں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم لوگوں پر لازم ہے اس شخص کی اور اس کی جماعت کی پیروی کرنا۔ راوی کہتے ہیں : پس میں نے جلدی کی یہاں تک کہ میں اس آدمی کے پاس پہنچ گیا پھر میں نے عرض کیا : اے اللہ کے نبی ﷺ! یہ شخص ؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہی شخص ہے۔ تو وہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ تھے۔